آغازِ کلام
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
آج ۲۱ واں روزہ ہے۔ رمضان سے پہلے میں کسی قدر ترد میں تھا۔ مگر رمضان آیا تو ۲۱ روزے اتنی تیزی سے گزر گئے کہ کچھ احساس ہی نہیں ہوا۔ البتہ کمزوری بڑھ گئی ہے۔ آجکل روزانہ ایک دو بار چکر آ جاتا ہے۔ آج دوپہر کے وقت آخرت کی باتیں سوچتے ہوئے خیال آیا کہ ساری زندگی میں نے سب سے زیادہ جنت کی تمنا کی، لیکن اگر اعمال کو دیکھیں تو اپنے اعمال کی بنا پر میں کسی بھی درجے میں اپنے آپ کو جنت کا مستحق نہیں سمجھتا۔ جنت میری سب سے زیادہ مطلوب چیز ہے، مگر جنت ہی وہ چیز ہے جو میرے لئے سب سے زیادہ مشتبہ ہے۔ کاش اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے وہ چیز دے دیں جس کا میں اپنے اعمال کے اعتبار سے مستحق نہ تھا۔ ۲۹ اپریل ۱۹۸۹ اوایس مارڈن (O.S. Marden) کا قول ہے کہ۔ پرامید شخص وہاں کامیابی کو دیکھ لیتا ہے جہاں دوسرے لوگ ناکامی دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ وہاں روشنی دیکھتا ہے جہاں دوسرے لوگوں کو صرف تاریکی اور طوفان نظر آتا ہے: The hopeful man sees success where others see failure, sunshine where others see shadows and storm. ۳۰ اپریل ۱۹۸۹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھتے ہوئے مسلمان جو الفاظ آپ کے لئے بولتے ہیں، ان میں سے ایک شفیع المذنبین (گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے) بھی ہے۔ یہ لفظ آپ کے لئے قرآن وحدیث میں کہیں نہیں آیا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے لئے قرآن میں غافر الذنب (المومن ۳) کا لفظ آیا ہے، یعنی گناہ بخشنے والا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال بھی عجیب ہے۔ وہ شفیع المذنبین سے واقف ہیں، جس کا ذکر قرآن وحدیث میں کہیں موجود نہیں۔ مگر وہ غافر الذنبن سے واقف نہیں، جس کا ذکر قرآن میں صراحۃ موجود ہے۔ کیسا عجیب ہے ان کا جاننا، اور کیا عجیب ہے ان کا نہ جاننا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader