Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

یکم مئی ۱۹۸۹ اخباری خبروں کے مطابق، آجکل بنگلہ دیش کے ہندوؤں میں ایک نئی تحریک ابھری ہے۔ اس کا نام بنگو بھومی' بتایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کے بعض علاقے جہاں ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہے۔ وہاں یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس کو بقیہ ملک سے الگ کرکے اس کو ہندوؤں کا ہوم لینڈ بنادیا جائے تاکہ ہندوؤں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ مسلمانوں کے اخبارات اس تحریک کو "سازش" قرار دے کر اس کے خلاف لفظی بیانات دینے میں مصروف ہیں۔ اس سلسلہ میں قابل لحاظ بات یہ ہے کہ ٹھیک اسی قسم کی علیحدگی پسندی کی سیاست خود مسلمان بہت سے ملکوں میں چلا رہے ہیں۔ جس ملک میں بھی اس کے کسی حصہ میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے، وہاں علیحدہ مسلم ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ مثلاً ایریٹیریا، لبنان، برما، فلپائن، موزمبیق، وغیرہ۔ مسلم اخبارات ان ملکوں میں مسلمانوں کی علیحدگی پسندی کی تحریک کو آزادی کی تحریک قرار دے کر ان کی حمایت کرنے میں مصروف ہیں۔ اور بنگلہ دیش میں اسی قسم کی تحریک کو تقسیم ملک کی گھناؤنی سازش قرار دے کر اس کی مذمت کر رہے ہیں ــــ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا یہی تضاد ہے جس نے ان کی تمام کوششوں کو بے ثمربنارکھا ہے۔ ۲ مئی ۱۹۸۹ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ فلاں شخص کا انتقال ہوگیا۔ یہ سن کر میں چپ ہو گیا اور دیر تک چپ رہا۔ انھوں نے چپ ہونے کا سبب پوچھا۔ میں نے کہا کہ یہ خبر ہر ایک کو معلوم ہے کہ " فلاں شخص کا انتقال ہو گیا"، مگر یہ خبرکسی کو معلوم نہیں کہ "میرا انتقال ہونے والا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جاننے والے بھی نہیں جانتے۔ سننے والوں نے بھی ابھی تک نہیں سنا۔ مولانا امیر اللہ خاں صاحب (محبوب نگر) رمضان کے دنوں میں کراچی گئے تھے۔ وہ وہاں ایک مہینہ گزار کر واپس آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اخلاقی اعتبار سے پاکستان کی حالت اتنی زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page