Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

گر چکی ہے کہ اس کے مقابلہ میں ہندوستان جنت معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے بہت سی مثالیں دیں۔ مثلاً انہوں نے کہا کہ یہاں سے جاتے ہوئے انہوں نے دہلی ریلوے اسٹیشن سے دہلی سے اتاری کے لئے ٹکٹ لیا جس کی قیمت فی ٹکٹ ۵۹ روپیہ تھی۔ چار ٹکٹ لے کر وہ آگے بڑھے تو ایک آدمی دوڑ کر آیا کہ ٹکٹ بابو آپ کو بلا رہے ہیں۔ وہ واپس ہو کر دوبارہ کھڑکی پر گئے تو انہوں نے چار روپیہ لوٹایا کہ آپ اس کو لینا بھول گئے۔ دوسری طرف لاہور اسٹیشن پر وہ لاہور سے ملتان کا ٹکٹ لینے کے لئے ایک کھڑکی پر گئے اور کلرک کو ۴۵ روپیہ دیا۔ اس نے پہلے روپیہ لے لیا۔ اس کے بعد یہ کہہ کر اس کو لوٹا دیا کہ یہ فرسٹ کلاس کے ٹکٹ کی کھڑکی ہے۔ سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ بازو کی کھڑکی سے ملے گا۔ انہوں نے اپنے روپیہ کو گنا تو اس میں دس روپیہ کم تھے۔ کلرک نے ۴۵ روپیہ لے کر صرف ۳۵ روپیہ لوٹائے تھے۔ مولانا امیر اللہ خاں صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے ہر نوٹ پر لکھا ہوتا ہے: "حصولِ رزق حلال عین عبادت ہے"۔ یہی جملہ سرکاری دفتر کی دیواروں پر بھی لکھا ہوا ہے۔ مگر عین اسی نوٹ سے اور عین اسی دفتر میں رشوت کا کاروبار اتنے بڑے پیمانے پر جاری ہے کہ اس کے مقابلہ میں ہندوستان کے کرپشن کی کوئی حقیقت نہیں۔ پاکستان میں ہر کام کے لئے رشوت اس طرح مطالبہ کر کے لی جاتی ہے جس طرح کوئی دکاندار چیزوں کی قیمت گاہک سے مانگ کر وصول کرتا ہے۔ پاکستان کا نعرہ، پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ، اسلام پسند رہنماؤں کی نصف صدی کی جدوجہد، جنرل ضیاء الحق کا ساڑھے گیارہ سال کا اسلامائزیشن، سب نے صرف الٹا نتیجہ برآمد کیا۔ ۴ مئی ۱۹۸۹ جنوری ۱۹۷۷ء میں مسلم یونیورسٹی میں ایک سیمینار تھا۔ اس سلسلہ میں علی گڑھ گیا ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہاں یونیورسٹی کے مہمان خانہ میں میری ملاقات جماعت اسلامی کے ایک رکن ڈاکٹر عبدالحق صاحب سے ہوئی ۔ ان کو جماعت اسلامی سے میری علیحدگی پر اختلاف تھا۔ انھوں نے کہا کہ میرے یا آپ کے اندر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی والی صلاحیت تو ہے نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page