Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

میں یا آپ خود کوئی مشن کھڑا نہیں کر سکتے۔ اس بنا پر ہمارے لئے صحیح یہ ہے کہ ہم جماعت اسلامی کی تحریک سے وابستہ رہیں۔ جماعت اسلامی سے وابستگی کے بارہ میں میں ان کی رائے سے متفق نہ تھا۔ گرچہ میرا بھی احساس تھا کہ میں خود کوئی مشن برپا نہیں کر سکتا۔ جس وقت علی گڑھ میں یہ بات ہو رہی تھی اس وقت اگر چہ الرسالہ کا اجرا عمل میں آچکا تھا۔ مگر میری ذات سمیت، کوئی بھی شخص یقین نہیں رکھتا تھا کہ وہ چند مہینے سے زیادہ مدت تک باقی رہ سکے گا۔ مگر رسالہ نکلتا رہا۔ آج رسالہ ساری دنیا میں پڑھا جارہا ہے۔ وہ دوسری مطبوعات کے ساتھ مکمل معنوں میں ایک مشن بن چکا ہے۔ ۱۹۷۶ء سے اب تک، اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت سی غیر معمولی نصرتیں مجھے حاصل ہوئی ہیں جن کی وجہ سے الرسالہ ایک مشن بن سکا۔ ان میں بھی ایک بے حد خاص نصرت میری وہ لڑکی ہے جس کا نام فریدہ خانم ہے۔ فریدہ خانم نہ صرف میرے اردو کے کاموں میں مسلسل معاون رہی ہے، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ تنہا اسی کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا کہ فروری ۱۹۸۴ء میں الرسالہ کا انگلش ایڈیشن جاری ہوا۔ یہ تمام تراسی کا کارنامہ ہے جو اب تک انگریزی الرسالہ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس درمیان میں میری جن کتابوں کے انگریزی ترجمے شائع ہوئے ہیں، وہ تمام تر اسی کی تنہا کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ میرا احساس یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اگر فریدہ خانم کے ذریعہ میری نصرت نہ فرمائی ہوتی تو نا ممکن تھا کہ میں اس مشن میں انگریزی شعبہ کھولوں اور اس کو کامیابی کے ساتھ چلا سکوں۔ ۵ مئی ۱۹۸۹ افغان باغیوں نے عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ مگر ابھی ان کے پاس افغانستان میں کوئی جگہ نہیں جہاں وہ اپنی حکومت کا مرکز بنا سکیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جلال آباد کو چُنا۔ پندرہ ہزار مجاہدین نے جلال آباد پر حملہ کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ 9 مارچ تک وہ جلال آباد پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر مارچ اور اپریل، دو مہینے کی کوشش کے باوجود وہ اب تک اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page