Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک سوال ہے کہ وہ مجاہدین جنہوں نے روسی فوجوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا، وہ روسی فوجوں کی واپسی کے بعد جلال آباد پر قبضہ کیوں نہ کر سکے ۔ قومی آواز (۴ مئی ۱۹۸۹) کی ایک رپورٹ کے مطابق ، فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ جلال آباد میں افغان باغیوں کو اس وجہ سے شکست ملی ہے کہ پہلی بار انہوں نے گوریلا جنگ ترک کرکے براہ راست حملہ کیا جس کی ان میں نہ صلاحیت تھی اور نہ سکت۔ ایک اعتبار سے اگر آدمی کی مہارت ثابت ہو جائے تو ضروری نہیں کہ دوسرے اعتبار سے بھی وہ ضرور مہارت رکھنے والا ہوگا۔ ۴ مئی ۱۹۸۹ اجودھیا کی بابری مسجد کے نام پر اٹھائی جانے والی تحریک آندھی کی طرح اٹھتی اور غبارہ کی طرح پھٹ کر ختم ہو گئی۔ بابری مسجد تحریک کے نام نہاد لیڈران اب خود نجی مجلسوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ بابری مسجد دوبارہ مسلمانوں کو ملنے والی نہیں۔ تاہم یہ تحریک اسلامی مرکز کے لئے ایک نعمت ثابت ہوئی ہے۔ راقم الحروف ، ۱۹۶ سے الجمعیتہ کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کو یہ سبق دیتا رہا ہے کہ ہند وسلم معاملات میں وہ ٹکراؤ اور ایمی ٹیشن کا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ صبر و اعراض اور حکیمانہ تدبیر کے طریقہ پر مسائل کو حل کریں۔ ۴۰ سالہ کوشش کے باوجود بہت کم مسلمانوں کو یہ پیغام متاثر کر سکتا تھا۔ مگر بابری مسجد کے ناکام تجربہ نے مسلمانوں کے ذہن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جو بات وہ دلیل سے سمجھ نہیں پا رہے تھے ، اس کو انھوں نے حالات کے دباؤ کے تحت قبول کر لیا ہے۔ اس سلسلہ میں بار بار مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ تازہ مثال سہسوان کی ہے۔ قومی آواز (۷ مئی ۱۹۸۹) میں سہسوان کے بارہ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پشت والی دیوار کی اوٹ سے ایک سور کے بچے کو عین اس وقت مسجد کے اندر پھینکا گیا جبکہ مسجد کے اندر کچھ نمازی عبادت میں مشغول تھے .... سہسوان کی سب سے اہم مسجد میں ایک سور کے چھوٹے بچہ کو پیچھے سے پھینکا گیا ، اس پر کچھ مسلمان چراغ پا بھی ہوئے۔ مگر سنجیدہ لوگوں نے بیچ میں پڑ کر حالات پر قابو پا لیا۔ واقعہ کی اطلاع مقامی کوتوالی میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page