Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

کی گئی اور پولیس حرکت میں آگئی۔۔ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ دنیا کی لذتیں انتہائی ناقص اور انتہائی محدود ہیں۔ اس لئے وہ انسان کا مقصود نہیں بن سکتیں۔ انسان فطری طور پر کامل اور لامحدود لذت چاہتا ہے۔ پھر ناقص اور محدود لذت کیوں کر اسے تسکین دے سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی لذتیں انسان کی طلب کا جواب نہیں ہیں اور نہ ہو سکتی ہیں۔ البتہ دنیا کی لذتوں کا ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔ وہ آخرت کی عظیم لذتوں کا ابتدائی تعارف ہیں۔ محدود لذت کا موجود ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ لامحدود لذت کی موجودگی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ اس طرح دنیا کی ”جنت“ آخرت کی ”جنت“ کے امکان کو ثابت کرتی ہے۔ کیوں کہ علمی اور عقلی اعتبار سے، کسی چیز کا ممکن ثابت ہونا ہی اس کی موجودگی کا ثابت ہو جاتا ہے۔ ۸ مئی ۱۹۸۹ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے ایک مشہور عالم کا نام لے کر کہا کہ آپ اکثر ان کے اوپر تنقید کرتے ہیں۔ کیا ان کی سب کتابیں غلط ہیں۔ کیا انھوں نے سب غلط باتیں ہی کہی ہیں۔ میں نے کہا کہ ایسا کوئی غلط کار دنیا میں پایا نہیں جاتا جس کی سب باتیں غلط ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ غلط وہ ہے جو صحیح میں غلط کو ملائے نہ کہ وہ جو صد فی صد غلط بات کہے۔ کیوں کہ ایسے غلط کار کا تو کوئی وجود ہی نہیں۔ انھوں نے میری بات سے اتفاق کیا۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں نے قادیانی کی ایک کتاب پڑھی۔ اس میں مجھے بہت سی اچھی اچھی باتیں لکھی ہوئی نظر آئیں، حالانکہ قادیانی کو تمام علما نے کافر قرار دیا ہے۔ مولانا عبد المتین بنارسی سے گفتگو کرتے ہوئے صحیح مسلم کی اس روایت کا ذکر کیا جو تأبیر نخل کے بارہ میں ہے اور جس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: انتم اعلم بامور دنیاکم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page