Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

کر دیا۔ اخلاقی پہلو کو خدائی ہدایت کا پابند بناتے ہوئے ٹیکنکل پہلو کے بارے میں کہہ دیا کہ اس کو تحقیق اور تجربہ کی بنیاد پر قائم کرو۔ گویا دینی مطالعہ کو سائنسی ریسرچ سے جدا کر دیا گیا۔ دوسرے مذاہب اپنی موجودہ شکل میں ان دونوں پہلوؤں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ انھوں نے ٹیکنکل پہلو کو بھی مذہبی عقائد کے تابع کر رکھا ہے۔ مثلاً ہندومذہب میں گائے کے گوشت کو طبی تحقیق کے بجائے مذہبی عقیدہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ عیسائی مذہب میں سورج اور زمین کی گردش کے معاملہ کو مذہبی عقیدہ کی حیثیت دے دی گئی۔ وغیرہ ٹیکنکل پہلو کو اس طرح مذہبی عقیدہ کے ماتحت کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ درخت کے پھل کی پیداوار کم ملے گی۔ انسان قیمتی گوشت کے فائدے سے محروم رہے گا۔ کائنات کے حقائق انسان کے اوپر ظاہر نہیں ہوں گے۔ وغیرہ۔ مذکورہ طریقہ کی بنا پر دوسرے مروجہ مذاہب سائنسی تحقیق اور ترقی کا دروازہ بند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام نے سائنسی تحقیق اور ترقی کا دروازہ آخری حد تک کھول دیا ہے۔ ۱۰ مئی ۱۹۸۹ء احمد دیدات (جنوبی افریقہ) کا ایک مختصر انٹرویو اخبار العالم الاسلامی مکہ کے شمارہ ۱۸ رمضان ۱۴۰۹ھ (۲۲ اپریل ۱۹۸۹ء) کے صفحہ اول پر چھپا ہے۔ بظاہر اس پر الدعوۃ الاسلامیہ کا عنوان قائم کیا گیا ہے۔ مگر حقیقت وہ مناظرہ کے بارے میں ہے۔ احمد دیدات کہتے ہیں کہ جو مناظرے میں نے کئے۔ ان کے سلسلہ میں میرا تجربہ مجھے یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ فتح ہمیشہ مجھ کو حاصل ہوگی۔ کیونکہ مسیحیت کے بارے میں میری معلومات خود مسیحیوں کی اپنی معلومات سے زیادہ ہوتی ہیں ان تجرباتی مناظرہ کی القراءتہ التدفعتہ التفاؤل بالانتصار دائمًا مع المذاہب التی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page