آغازِ کلام
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
النصرانية تفوق معلومات النصارى انفسهم عن دينهم ) احمد دیدات صاحب میرے نزدیک ایک مناظر ہیں نہ کہ داعی۔ ان کا اندازِ کلام مناظرانہ ہوتا ہے نہ کہ داعیانہ۔ مناظرہ ایک قسم کی لفظی جنگ ہے۔ اس کا مقصد فریق ثانی کے اوپر فتح حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دعوت خیر خواہی کا ایک عمل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے دل میں اسلام کی سچائی کو اتارا جائے اور اس کو خدا کے دین رحمت کے سایہ میں لایا جائے۔ مناظرہ دنیوی فتح شکست کی اصطلاحوں میں سوچتا ہے، داعی اخروی جنت اور جہنم کی اصطلاحوں میں۔ ۱۱ مئی ۱۹۸۹ء مسٹر پرمود کارتر ایک بڑے ہندو افسر ہیں۔ انھوں نے امریکہ سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لی ہے۔ آج ایک ملاقات میں انھوں نے کہا کہ پچھلے چند سالوں سے ٹیلی ویژن پر راما ئن پر جو سیریل دکھائے جارہے ہیں، وہ بہت زیادہ انقلابی اثرات کے حامل ہیں۔ انھوں نے ہندوؤں کے اندر ایک نئی جاگ پیدا کی ہے۔ ہندو اپنی ویژن سے از سر نو واقف ہوئے ہیں۔ یہ بالکل ایک نیا ریوولیوشن ہے۔ یہ محض خوش فہمی کی باتیں ہیں، کیوں کہ سماجی حالات کو دیکھا جائے تو ہندو سوسائٹی مسلسل بگاڑ کی طرف جارہی ہے۔ کرپشن میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ ہوم آفیرس کے اسٹیٹ منسٹر مسٹر پی چدمبرم نے ۸ مئی ۱۹۸۹ء کو لوک سبھا میں بتایا کہ دہلی میں جہیز کی موتوں (Dowry deaths) میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ۱۹۸۷ء میں ۵۹ نوجوان عورتوں کو ان کے سرال میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ۱۹۸۸ء میں اس طرح جلائی جانے والی نوجوان عورتوں کی تعداد ۷۱ تک پہنچ گئی (ٹائمز آف انڈیا ۹ مئی ۱۹۸۹ء) یہ تمام کی تمام عورتیں ہندو تھیں۔ اور صرف دہلی کی بات ہے۔ مسلمان بھی اسی قسم کی خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں۔ ہندو اور مسلمانوں میں آجکل اس قسم کے پروگرام بہت سے چلائے جارہے ہیں۔ ان پروگراموں سے جو چیز پیدا ہوئی ہے وہ صرف قومی فخر ہے، اور اسی قومی فخر کو دونوں فرقے غلطی سے قومی ترقی کے ہم معنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader