آغازِ کلام
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
سمجھ رہے ہیں ۔ آج پاکستانی سفارتخانہ (نئی دہلی) کی ایک تقریب میں شرکت کی۔ میری کتاب پیغمبر انقلاب (انگریزی) پر حکومت پاکستان نے پہلا انٹرنیشنل انعام دیا ہے۔ اس کے سلسلہ میں سفارت خانہ کی طرف سے یہ تقریب ہوئی۔ دہلی کا پاکستانی سفارتخانہ ۱۵ ایکڑ رقبہ میں قائم ہے۔ اس میں تقریباً ۳۰۰ آدمی کا اسٹاف ہے۔ تقریب سے واپس آنے کے بعد میں نے سوچا کہ اگر میں یہ کہوں جس طرح دنیا میں حکومت پاکستان نے میری کتاب کو قابل انعام قرار دیا ہے، اسی طرح انشاء اللہ آخرت میں وہ خدا کے یہاں بھی قابل انعام قرار پائے گی : تو یہ جملہ بظاہر گرامر کے لحاظ سے صحیح ہوگا، مگر حقیقت کے اعتبار سے بلاشبہ وہ سراسر غلط ہے۔ دنیا میں انسان کا معاملہ انسان سے ہے۔ آخرت میں انسان کا معاملہ خدا سے ہوگا۔ بندوں کی نسبت سے ایک کتاب کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے، مگر خدا کی نسبت سے کسی کتاب کی کوئی قیمت نہیں۔ ۱۳ مئی ۱۹۸۹ پاکستان کے ایک تعلیم یافتہ بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا اس لئے یہاں اسلام کا نظام قائم ہونا چاہئے ۔ مگر قسمتی سے آدھی صدی کے قریب کا عرصہ گزر گیا اور اب تک یہ کام نہ ہو سکا۔ میں نے کہا کہ اپنے بیان میں اگر آپ صرف ایک لفظ کی تبدیلی کر دیں تو آپ کو موجودہ صورت حال پر افسوس کی ضرورت نہ ہوگی۔ معمولی لفظی تبدیلی کے ساتھ آپ اس طرح کہیں کہ : پاکستان اسلام کے نعرہ پر بنا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آدھی صدی سے نعروں کی سیاست جاری ہے۔ میں نے کہا کہ پاکستان اگر واقعی اسلام کے نام پر بنتا تو ، ۱۹۴۷ میں پاکستان بننے کے بعد ہی وہاں اسلام آجاتا ۔ مگر حقیقت یہ ہے پاکستان اسلام کے نام پر نا ر ہا۔ اس لئے بالکل فطری ہے کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں نعروں کی سیاست کا زور ہو جائے ۔ چنانچہ ایسا ہی پیش آیا ۔ پاکستان آج دنیا کا سب سے زیادہ نعرہ باز ملک ہے ۔ اس میں نہ کوئی تعجب کی بات ہے اور نہ افسوس کی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader