Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

دھولیہ (مہاراشٹر) میں مارچ ۱۹۸۹ میں فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ اس کے بارے میں ایک مختصر مضمون الرسالہ (ستمبر ۱۹۸۹) میں انشاء اللہ شائع ہوگا۔ دھولیہ کے دو آدمیوں نے بتایا کہ ہولی کے موقع پر ہندوؤں نے مسجد کی دیوار پر پانی پھینکا تھا۔ مگر جب دونوں فرقوں میں جھگڑا ہو گیا تو مسلمانوں نے معاملہ کو گھینانک بنانے کے لئے خود رات کے وقت مسجد کی دیواروں پر رنگ ڈال کر اس کو رنگین کر دیا تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ ہندوؤں نے مسجد کی دیوار پر ہولی کا رنگ ڈالا تھا۔ میں نے کہا کہ میں اپنی رپورٹ میں یہ بات لکھ دیتا ہوں۔ مگر دھولیہ والوں نے سخت اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تمام رپورٹیں، تمام کاغذات اور مقدمہ کے بیانات، سب میں یہی بتایا گیا ہے کہ ہندوؤں نے رنگ پھینکا۔ اب اگر آپ لکھ دیں کہ ہندوؤں نے پانی پھینکا تھا اور مسلمانوں نے اپنی طرف سے رنگ ڈال دیا تو ہمارا کیس بگڑ جائے گا۔ میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا یہی مزاج ہے جس نے انہیں خدا کی مدد سے محروم کر رکھا ہے اور وہ مسلسل بربادی کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ خدا کی مدد ہمیشہ سچ پر آتی ہے۔ جھوٹ پر کبھی خدا کی مدد نہیں آتی۔ آپ لوگ جھوٹ پر خدا کی مدد اتارنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک آپ کے اوپر نہیں اتری۔ ۱۵ مئی ۱۹۸۹ پاکستان کے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے انجمن خدام القرآن قائم کی ہے۔ اس کے آرگن کے طور پر ماہنامہ میثاق نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ مئی ۱۹۸۹ میں صفحہ ۳۷ پر ایک مضمون کا عنوان ہے : بھارت میں دعوت رجوع الی القرآن کا ایک نیا مرکز ۔ یہ کلیان (ممبئی) کے معین الدین ڈون کا خط ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ آپ کے تین رسالہ (میثاق ، حکمت قرآن، ماندا) باقاعدگی سے مل رہے ہیں۔ نوجوانان ہند، جن کی جذباتی وابستگی پاکستانی مسلمانوں سے آج بھی جوں کی توں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page