Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اور ان کا ادارہ مسلح تصادم (Armed conflict) کے ذریعہ ساری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے علمبردار ہیں۔ ایسی حالت میں ہندوستانی مسلمان کا انھیں مذکورہ انداز کا خط لکھنا اور اس کا پاکستانی ماہنامہ میں نمایاں طور پر چھاپنا اشتعال انگیز حد تک غلط ہے۔ اس کی غلطی اس طرح سمجھی جاسکتی ہے کہ پاکستان کا ایک ہندو اگر ہندوستان کی تنظیم آر ایس ایس کو خط لکھے جو اکنڈ بھارت کی علم بردار ہے، اس خط میں پاکستانی ہندو لکھے کہ پاکستان کے ہندو نوجوان بھارت کے ساتھ زبردست جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور ہم یہاں سے آر ایس ایس کو مستقل سالانہ مدد پہنچائیں گے تو ڈاکٹر اسرار سمیت تمام پاکستان کے مسلمان غصہ سے بھر جائیں گے اور پاکستانی ہندوؤں کو غدار سے کم کوئی لقب نہیں دیں گے۔ میرے نزدیک یہ کینہ پن ہے کہ آدمی اپنے لئے کچھ پسند کرے اور دوسرے کے لئے کچھ۔ ۱۶ مئی ۱۹۸۹ آج ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ آئے: قیامت میں جب دوسرے لوگ نازبے گناہی کے ساتھ پہنچیں گے، یہ عاجز اور حقیر بندہ احساس گنہ گاری کے ساتھ آہستہ قدموں کے ساتھ چلتا ہوا آئے گا۔ ۱۷ مئی ۱۹۸۹ میرے خلاف آجکل تنقیدوں کا سیلاب آیا ہوا ہے ۔ لکھنے والے لکھ رہے ہیں، بولنے والے بول رہے ہیں۔ مگر سب کا خلاصہ صرف ایک ہے۔ یہ تمام لوگ میری تنقیدوں سے برہم ہیں۔ عثمان غنی عادل صاحب نے اخبار انقلاب (بمبئی) میں کئی قسطوں میں ایک مضمون شائع کیا ہے، اس میں لکھتے ہیں : " صاحب الرسالہ کے عتاب کا نشانہ زمانہ بعید اور زمانہ قریب کی بے شمار شخصینیتیں بنتی رہی ہیں۔ صاحب الرسالہ کی اعلیٰ اور روشن تحریروں کا یہی ایک کمزور پہلو ہے جو ان کے مثبت پہلوؤں کی قدر یہی گھٹا دیتا ہے۔" میرے ناقدین کا حال یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے اب تک میرے نقطہ نظر کو دلیل سے رد نہیں کیا۔ ان کی تمام تحریریں الزام بازی، استہزا اور اظہار غضب کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ جب کہ میری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page