Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

تنقیدیں دلیل پر مبنی ہوتی ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ لوگوں نے خود اپنے لئے تو تنقیدیں تک کو جائز ٹھہرا رکھا ہے، مگر مجھے علمی تنقید کی بھی اجازت نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے بارہ میں میرا احساس یہ ہے کہ ان کا سب سے بڑا مذہب شخصیت پرستی ہے نہ کہ خدا پرستی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ خدا کے خلاف روزانہ بے شمار لٹریچر چھپ رہے ہیں، مگر اس کو دیکھ کر مسلمانوں میں کوئی جذبہ نہیں بھڑکتا۔ وہ ٹھنڈے ذہن کے تحت ان کو برداشت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے انسانی اکابر پر تنقید کر دیجیے تو وہ آخری حد تک بھڑک اٹھیں گے۔ مسلمانوں کے ہر گروہ نے کسی نہ کسی کو اپنا بڑا بنا رکھا ہے۔ وہ سب کچھ سن سکتا ہے مگر اپنے بڑے کے خلاف کچھ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ اسی کا نام شخصیت پرستی ہے، اور شخصیت پرستی ایک قسم کا شرک ہے۔ ۱۹ مئی ۱۹۸۹ مسٹر ایس ایس بھٹناگر (غازی آباد) کا ساتھ ہیں۔ وہ اچھی اردو جانتے ہیں اور رسالہ کے قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوؤں میں کثرت سے ایسے لوگ ہیں جو اردو سیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے غازی آباد کے کئی ہندوؤں کے نام اور پتے بتائے جو بھٹنا گر صاحب کے ذریعہ اردو زبان پڑھ رہے ہیں۔ اردو کی اصل کمی یہ نہیں ہے کہ اس ملک میں اردو کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے۔ اردو کی اصل کمی یہ ہے کہ اس میں تخلیقی اور صحت بخش لٹریچر نہیں۔ اگر مسلم علما اور دانشور محنت کر کے ایسی کتا بیں لکھیں جو اسلام کے آفاقی اور انسانی پہلوؤں کو اعلیٰ اسلوب میں پیش کرتی ہوں تو نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی اس کو ضرور پڑھیں گے۔ ہندوؤں کی اصل مشکل رسم الخط کا مسئلہ ہے۔ ہند و عام طور پر اردو زبان سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ اس کو پڑھ نہیں پاتے۔ اس کا ایک حل یہ ہے کہ عام دل چسپی کے مضامین پر معیاری قسم کے کیسٹ تیار کئے جائیں اور ان کو ہندوؤں میں بڑے پیمانہ پر پھیلایا جائے ۔ یہ اردو کو زندہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page