Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

رکھنے کی سب سے طاقت ور ضمانت ہے۔ آج صبح کو فجر سے پہلے نیند کھلی۔ بستر پر لیٹا ہوا اپنا احتساب کر رہا تھا۔ اپنے اعمال نامہ میں مجھے صرف غلطیاں نظر آئیں۔ کوئی ثواب کا کام دکھائی نہیں دیا۔ میری زبان سے نکلا: لوگ اپنے آپ سے خوش اور ساری دنیا سے خفا ہوتے ہیں۔ میرا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ میں ساری دنیا سے خوش اور صرف اپنے آپ سے خفا ہوں۔ ۲۱ مئی ۱۹۸۹ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ رجال کو حق سے پہچانا جاتا ہے، حق کو رجال سے نہیں پہچانا جاتا (انما يعرف الرجال بالحق ولا يعرف الحق بالرجال) موجودہ زمانہ کے مسلمان اس قول کے بالکل برعکس ہیں۔ موجودہ مسلمانوں کے نزدیک حق کی پہچان یہ ہے کہ ان کے مفروضہ اکابر اس کی تصدیق کرتے ہوں ۔ ان کے اکابر ان کے لئے حق کا معیار بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اکابر پر تنقید کو بالکل برداشت نہیں کرتے۔ حق کا مجروح ہونا انہیں گوارا ہے، مگر انہیں یہ گوارا نہیں کہ ان کے اکابر کی شخصیتیں مجروح ہوں۔ ۲۲ مئی ۱۹۸۹ ولیم جاننگ (Wiliam E. Channing) کا قول ہے کہ غلطی ایک طریقہ ہے جس ذریعہ ہم ترقی کرتے ہیں : Error is the discipline through which we advance. اس میں شک نہیں کہ غلطی آدمی کو نئے نئے راستے دکھاتی ہے، وہ آدمی کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر غلطی کا یہ فائدہ اس وقت ہے جب کہ غلطی کا اعتراف کیا جائے۔ اعتراف نہ کرنے کی صورت میں غلطی صرف نقصان ہے۔ مگر اعتراف کرنے کی صورت غلطی ترقی کا زینہ بن جاتی ہے۔ رابرٹ ہیرک (Robert Herrick) کا قول ہے کہ یہ دراصل انجام ہے جو ہمیں سرفراز کرتا ہے نہ کہ صرف لڑنا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page