Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

It is the end that crowns us, not the fight. موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا معاملہ اس مقولہ کے بالکل برعکس ہے۔ وہ مسلسل بے نتیجہ لڑائی لڑ رہے ہیں اور یک طرفہ طور پر بربادی اور ہلاکت سے دوچار ہوتے ہیں۔ مگر ان میں کوئی نہیں جو ان لڑائیوں کو انجام کے اعتبار سے جانچے۔ وہ صرف ایک بات جانتے ہیں— اپنی جھوٹی لڑائیوں کو قربانی کے خانہ میں ڈال کر فخر کرتے رہنا۔ ۲۴ مئی ۱۹۸۹ ایک صاحب کو ہم مرکز میں بطور کارکن بلانا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں ان سے خط و کتابت ہوئی۔ ہم نے یہ کہا کہ فی الحال ہم آپ کو ایک ہزار روپیہ مہینہ دے سکتے ہیں۔ ان کا اصرار یہ تھا کہ ان کا مشاہرہ دو ہزار روپیہ مہینہ ہونا چاہئے، زیادہ تنخواہ پر وہ اتنا زیادہ غیر رہے کہ انھوں نے ہماری پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آج ان سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے اپنی بعض تقریروں کا خلاصہ بتایا۔ اپنی ایک تقریر کی روداد بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ آدمی کو اصول کے معاملہ میں حساس ہونا چاہئے اور مادی چیزوں کے بارے میں غیر حساس۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنی تقریر میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی لڑکیوں نے اپنے باپ سے شکایت کی کہ آجکل انھیں صرف پیاز اور مسور کی دال کھانے کو مل رہی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا کہ تم لوگ اس کو پسند کرتی ہو کہ پیاز اور مسور کی دال کھاؤ اور مرنے کے بعد جنت میں باؤ یا یہ کہ عمدہ قسم کے کھانے کھاؤ اور مرنے کے بعد تمہیں جہنم میں داخل کیا جائے۔ (او کما قال) انھوں نے کہا کہ میری تقریر پر لوگوں نے بہت پسند کی۔ میں نے کہا کہ مگر مجھے آپ کی تقریر پسند نہیں۔ آپ اپنے لئے کچھ پسند کرتے ہیں اور دوسروں کے لئے کچھ۔ آپ دوسروں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ " پیاز اور مسور کی دال" پر قناعت کرو اور خود اپنے لئے اس کے برعکس دستر خوان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مقررین کا عام طور پر یہی حال ہے، ان کا عمل کچھ ہے اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page