آغازِ کلام
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کی تقریر کچھ۔ یہی وجہ ہے کہ جلسوں اور تقریروں کی دھوم کے باوجود اس کا کوئی اصلاحی فائدہ نہیں ہوتا۔ ۲۰ مئی کی شام کو میں میوات گیا تھا۔ چند دن ٹھہر کر آج واپس آیا۔ میوات میں موٹی روٹی پکائی جاتی ہے جو اکثر پکی ہوتی ہے۔ میں یہ روٹی کھاتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میرا پیٹ بالکل خراب ہوگیا۔ پیٹ کا یہ حال ہوگیا کہ جیسے اس نے ہضم کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر کھودی ہو۔ سخت کمزوری آ گئی۔ آج دہلی واپس آکر دو دوا کھائی۔ تشخیص بالکل صحیح تھی چنانچہ چند گھنٹے کے اندر اس سے کنٹرول ہوگیا۔ اور پیٹ کی حالت درست ہوگئی۔ حدیث میں آیا ہے کہ ہر بیماری کے لئے دوا ہے (بلكل داء دواء)، اس دنیا میں ایک طرف مرض ہونا اور دوسری طرف اس کی دوا ہونا، ایک طرف مضر چیزوں کا ہونا اور دوسری طرف ایسی چیزوں کا ہونا جو ضرر کا ازالہ کرنے والی ہوں، یہ بتاتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ایک صاحب شعور خالق ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں صرف ایک چیز پائی جاتی۔ اس کی مناسبت سے دوسری چیز کا وجود نہ ہوتا۔ ۲۶ مئی ۱۹۸۹ اسلامی شاعر حسان بن ثابت الانصاری کا ایک شعر ہے ۔ اس کے آخری مصرعہ میں وہ کہتے ہیں کہ میں اس چیز کا بہت زیادہ چھوڑنے والا ہوں جس کا میں عادی نہ بنا ہوں : وَإِنِّى لَتَرْكِكَ لِفَالَمْ أَعُودِ اس شعر میں (عود) کا لفظ غالب ضرورت شعری کی بنا پر ہے۔ دوسرا کوئی لفظ یہاں زیادہ پر معنی ہو سکتا تھا۔ تاہم اس سے قطع نظر ، شاعر اس میں جو بات کہنا چاہتا ہے وہ بہت اہم ہے۔ یعنی آدمی اپنے آپ کو اسی کام میں ڈالے جس کی واقعی استعداد اس کے اندر موجود ہو۔ جس کام کی استعداد آدمی اپنے اندر نہ پائے وہ اس کے اندر داخل ہونے سے آخری حد تک پرہیز کرے۔ فتنۂ ابن الزبیر (۷۳ھ) کے زمانہ میں حضرت عبداللہ بن عمر خانہ نشیں ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader