آغازِ کلام
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
ان سے کہا کہ آپ اس جہاد میں حصہ کیوں نہیں لینے۔ جب کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے لڑو، یہاں تک فتنہ باقی نہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ اس آیت کا تعلق اسلام اور شرک کی لڑائی سے ہے نہ کہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائی سے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ آیتوں اور حدیثوں کو جانتا ہو۔ اسی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ وہ آیت اور حدیث کے موقع و عمل سے واقف ہو۔ بصورت دیگر وہ آیت اور حدیث کا حوالہ دے گا، مگر وہ اس سے ایسا مطلب نکال رہا ہوگا جس کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ ۲۸ مئی ۱۹۸۹ء امریکہ میں ہائی وے پر گاڑی چلانے کی آخری حد رفتار ۵۵ میل فی گھنٹہ ہے۔ اس حد بندی کے دو مقاصد ہیں۔ انتہائی تیز رفتاری کے باعث پٹرول کے ضیاع کوروکنا۔ اور حادثہ کے امکان کو کم کرنا۔ یہاں سڑک کنارے ہر ایک سو گز کے فاصلہ پر رفتار چیک کرنے والے خاص راڈار (RADAR) نصب کئے گئے ہیں۔ اس کے نیچے جلی حرفوں میں یہ عبارت درج رہتی ہے: آپ کی رفتار راڈار کے ذریعہ چیک کی جارہی ہے۔ محتاط رہے۔ اگر آدمی کے اندر خدائی احساس زندہ ہو تو وہ سڑک کی اس وارننگ میں زندگی کی وارننگ پڑھ لے گا۔ وہ دنیا کے واقعہ میں آخرت کی حقیقت کو پا جائے گا۔ ۲۹ مئی ۱۹۸۹ء ٹائم میگزین (۲۹ مئی ۱۹۸۹ء) کے صفحہ ۳ پر نہایت نمایاں انداز میں آسکر وائلڈ (Oscard Wilde) کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ یہ دراصل شخصیتیں ہیں نہ کہ اصول جو زمانہ کو حرکت دیتے ہیں: It is personalities, not principles that move the age. میں سمجھتا ہوں کہ یہ نصف صداقت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ طاقت ور شخصیتیں ہی کوئی بڑا انقلاب لاتی ہیں۔ مگر خود طاقت ور شخصیتوں کی طاقت بھی اصول اور نظریہ ہی ہوتا ہے۔ جس آدمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader