Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

نے شکست کھائی ہے تو تم معرکہ احد سے عبرت حاصل کرو۔“ میں نے سوچا کہ مسلمان اس جملہ کو پچاس سال سے دہرا رہے ہیں۔ مگر وہ اپنی موجودہ شکست کے مرحلہ کے بارے میں اس سے کوئی نصیحت حاصل نہ کر سکے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ سید صاحب نے یہ جملہ بطور فخر لکھا تھا۔ اس لئے مسلمان بھی اس کو بطور فخر دہرا رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اس سے نصیحت لینے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ ہندوستان ٹائمس (۱۱ جنوری ۱۹۹۱) میں ۲۵ سالہ بنگالی خاتون سویتا ناتا (Savita Natta) کا انٹرویو چھپا ہے۔ وہ نابینا ہیں۔ وویکانند کالج کلکتہ سے انھوں نے ۱۹۸۸ میں بی اے کیا۔ ان کا مضمون تاریخ اور فلسفہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں مذہب میں عقیدہ نہیں رکھتی۔ اس کا کیا ثبوت ہے کہ خدا ہے۔ میں اس قسم کا کوئی ثبوت نہیں جانتی۔ ایسی حالت میں میں کیسے خدا پر یقین کر سکتی ہوں: Where is the proof that there is a God. I know of no such proof so how can I accept God as true. آج ہی کی ڈاک سے مجھے لندن کے انگریزی اخبار انڈپنڈنٹ کا شمارہ ۶ جنوری ۱۹۹۱ ملا۔ اس میں ممتاز برٹش سائنس داں پروفیسر آرنلڈ ولفنڈیل (Arnold Wolfendale) کا انٹرویو چھپا ہے۔ انھوں نے خدا کے وجود کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی دریافت جو میں نے یا دوسروں نے کائنات میں کی ہے وہ سنجیدہ طور پر میرے عقیدہ خدا سے ٹکراتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ خدا کا ہاتھ ہر چیز میں دیکھا جا سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کائنات میں ایک خدائی نظم ہے۔ اگرچہ ہم ابھی تک اس کو دریافت نہیں کر سکے ہیں اور نہ شاید کبھی دریافت کر سکیں گے: I wouldn't say any discoveries I or others have made in cosmology impinge seriously on my beliefs. I think the hand of God can be seen everywhere. I think there is some divine order though we cannot yet, and perhaps never will, discern it.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page