Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

رفیق احمد کانپوری صاحب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوستانی مسلمان ہیں۔ ایک عرصے سے وہ سعودی عرب میں رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا احساس بتایا کہ ہم لوگوں کو بہت دکھ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کیا جار ہا ہے۔ میں نے کہا کہ بات یہ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈروں نے مسلمانوں کا مزاج بگاڑ دیا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب پاکستان بننے کا فیصلہ ہو گیا تو مسلم لیگ لیڈروں کی رہنمائی میں عوام نے نعرہ لگایا : ہنس کے لیا ہے پاکستان ، لڑا کریں گے ہندوستان یہی نعرہ ہندوستانی مسلمانوں کا مزاج بن گیا۔ وہ ساری دنیا میں موافقت کر کے رہتے ہیں اور ہندوستان میں لڑا کر رہنا چاہتے ہیں۔ اس مزاج نے سارے مسائل پیدا کئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بتائیے کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ سعودی عرب میں یہی ہندوستانی مسلمان موافقت کرکے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موافقت نہیں وہاں تو یہ لوگ ذلیل ہو کر رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ پھر کیا آپ ہندوؤں کو عرب مسلمانوں سے زیادہ متقی سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسلمان جس طرح باہر کے ملکوں میں موافقت کر کے رہتے ہیں ، اگر وہ اسی طرح ہندوستان میں رہنے لگیں تو یہاں کے سارے فرقہ وارانہ مسائل چند دن میں ختم ہو جائیں گے۔ 10 جنوری 1991 مولا ناسید سلیمان ندوی کی سیرت پر ایک کتاب ہے. جس کا نام ” خطباتِ مدراس “ ہے ۔ اس کتاب کا ایک صفحہ مسلمانوں کو بہت پسند ہے اور وہ نہ صرف مذکورہ کتاب کی صورت میں بار بار پڑھا گیا ہے ۔ بلکہ ہزاروں مختلف صورتوں میں نقل کیا گیا ہے ۔ مثلاً مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اپنی کتاب ” السیرة النبویة “ کے آخر میں اس کو ” قطعہ جمیلۃ “ کے طور پر شامل کیا ہے ۔ میں ہندوستانی مسلمانوں کا ایک ماہانہ رسالہ پڑھ رہا تھا ۔ اس میں مولانا سید سلیمان ندوی کے مذکورہ ٹکڑے کو خصوصی اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا ہے ۔ اس میں زندگی کے ہر قسم کے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکتے کو نکالا گیا ہے اس کا ایک جز یہ ہے کہ : ” اگر تم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page