ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
پڑے ہوئے ہیں۔ کیسا عجیب ہے یہ فرق۔ ایک صاحب نے کہا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کی داخلی پسماندگی ہے۔ مسلمان اب ریفرنس گروپ (reference group) کی حیثیت سے باقی نہیں رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ اچھی باتوں میں مسلمانوں کا حوالہ دیا جاتا تھا۔ اب حالت اس کے برعکس ہے۔ جب تک یہ صورتِ حال ختم نہ کی جائے، مسلمانوں کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ یہ صاحب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ ۱۴ جولائی ۱۹۹۱ قومی آواز (۱۳ جولائی ۱۹۹۱) میں مالک رام کے بارے میں ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا ایک جُز یہ ہے: "کسی بزرگ نے مالک رام سے کہا تھا کہ اگر کسی کے بیٹا نہ ہوتا ہو اور وہ اپنی بیٹی کا نام بشریٰ رکھ دے تو اس کے بعد اس کے یہاں بیٹا پیدا ہوگا۔ اس کی تاویل انھوں نے سورہ یوسف کی اس آیت یا بشرٰی هذا غلام سے کی۔ مالک رام کے یہاں جب تیسری بار بھی بچی پیدا ہوئی تو انھوں نے اس کا نام بشریٰ رکھا۔ اس کے بعد خدا نے ان کو بیٹے دئے جن کا نام انھوں نے آفتاب اور سلمان رکھا۔" قرآن سے اس قسم کے بہت سے اعمال نکالے گئے ہیں۔ مگر یہ قرآن کا کمتر استعمال ہے۔ قرآن کا اصل اور اعلیٰ استعمال یہ ہے کہ اس کو کتابِ ہدایت کے طور پر لیا جائے، اس کو اپنی عملی زندگی کے لئے رہنما بنایا جائے۔ ۱۵ جولائی ۱۹۹۱ بعد کی مسلم نسلوں پر جب زوال آیا تو انھوں نے فکر و تدبر کی صلاحیت کھودی۔ قرآن و سنت کی اتباع کے بجائے اپنے ائمہ کا اتباع ان کا مذہب بن گیا۔ ائمہ کے اقوال عملی طور پر آیات و احادیث سے بھی زیادہ اہم بن گئے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے یہ کہہ دیا: كل نصٍ خالَفَ ما قالَهُ الاصحاب فھو ا اما منسوخ او مؤول (ہر نص جو ہمارے اصحاب کے قول کے خلاف ہو وہ یا تو منسوخ ہے یا قابلِ تاویل)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader