Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے بتایا کہ ہماری جنگ حکومت سے تھی۔ ہم اپنے اخبار میں مسلسل یہ لکھ رہے کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی کو دور کرے۔ میں نے کہا کہ آپ نے اخبار کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ بات کیوں نہیں بتائی کہ اس ملک میں ایک شخص اردو کتابت جیسے کام سے بارہ ہزار روپیہ مہینہ کما سکتا ہے۔ اس لئے یہاں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہر شخص محنت کے ذریعہ ترقی کر سکتا ہے۔ اس کا انھوں نے کوئی خاص جواب نہیں دیا۔ ۱۱ جولائی ۱۹۹۱ء "الربانیہ" کی کتابت مکمل ہو چکی ہے۔ جلد ہی انشاء اللہ وہ چھپ جائے گی۔ اس کے ٹائٹل کی پشت کے لئے میں نے حسب ذیل مضمون لکھ کر دیا: حقیقی انسان وہ ہے جو اپنے رب میں جینے والا انسان بن جائے۔ جس کے صبح و شام اللہ کی یادوں میں بسر ہونے لگیں۔ ایسے ہی انسان کو ربانی انسان کہا جاتا ہے۔ ربانی انسان ایک پودے کی مانند دنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ پوری کائنات سے معرفت کا رزق لے کر بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مکمل درخت بن جاتا ہے۔ تاکہ وہ دنیا میں لوگوں کو پھل اور سایہ دے، اور پھر اس کو آخرت کے باغوں میں نصب کر دیا جائے جہاں وہ ابدی طور پر جنت کی فضاؤں میں لہلہاتا رہے۔ ۱۲ جولائی ۱۹۹۱ء عربی المجلة (۳ جولائی ۱۹۹۱ء، ۲۱ ذو الحجہ ۱۴۱۱ھ) میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے: توزیع الثروة العربية بين الواقع والخيال ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۰ء سے ۱۹۸۷ء تک سترہ سالوں کے درمیان خلیج کے ملکوں نے ۸۳ بلین ڈالر کی رقم مسلم ملکوں کو بطور امداد دی ہے۔ اس رقم کو پانے والے ممالک ہیں : اردن، یمن، شام، سوڈان، تیونس، وغیرہ۔ پھر بتایا گیا ہے کہ انھیں سترہ سالوں میں امریکہ نے ساؤتھ کوریا کو دو بلین ڈالر بطور امداد دئے۔ ساؤتھ کوریا اس رقم کو استعمال کر کے پچھلے ۲۰ برس کے اندر ایک ترقی یافتہ ملک بن گیا۔ مگر مسلم ممالک جہاں ۲۰ برس پہلے تھے وہیں آج بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page