ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
اتنے کھلے الفاظ ہر ایک نہیں بولتا۔ مگر عملاً تمام لوگوں کا مذہب یہی ہے۔ ہر ایک نے کچھ شخصیتوں کو " اکابر " کا درجہ دے دیا ہے۔ اور جہاں ان کے اکابر کا ہر معاملہ ہو وہ قرآن وحدیث کی کھلی دلیل کو بھی سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ صرف اس دین کو جانتے ہیں جس کی تصدیق ان کے اکابر کے اقوال سے ہوتی ہو۔ جس دین کو ان کے اکابر کی تصدیق حاصل نہ ہو وہ ان کے نزدیک دین بھی نہیں۔ ۱۶ جولائی ۱۹۹۱ ۱۹۹۱ میں ہندوستان کا یہ حال ہو گیا کہ اس کے پاس بیرونی قرضوں کی قسط ادا کرنے کے لئے زر مبادلہ باقی نہیں رہا۔ چنانچہ مرکزی حکومت نے مجموعی طور پر چون ( 54.8 ) ٹن سونا یورپی بینکوں کے ہاتھ فروخت کر کے ڈالر حاصل کئے ۔ ۲۰ ٹن ایک بار ، اور ۴۳ ٹن ایک بار۔ اس کے علاوہ اسی دوران ہندوستانی روپیہ کو تین بار devalue کیا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اقتصادی اعتبار سے کس دیوالیہ پن کے کنارے پہنچ گیا ہے۔ یہ سب حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ۱۷ جولائی ۱۹۹۱ ۱۹۹۱ کے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا نعرہ تھا : اب کی بار بھا جپا سرکار ۔ اسی طرح ۱۷ ۱۹ میں پاکستان کے الیکشن میں وہاں کی جماعت اسلامی نے پاکستانی شہروں میں اس مضمون کے پوسٹر لگائے تھے : انشاء اللہ جیتے گی ، جماعت اسلامی جیتے گی۔ مگر دونوں ملکوں میں دونوں جماعتیں ناکام ہوگئیں۔ میرا اندازہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان میں ابھی وہ وقت نہیں آیا جب کہ مذہب کو سیاسی ووٹ ملے۔ اس لئے دونوں میں سے کسی ملک میں مذہبی جماعتیں ابھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انھیں وقتی طور پر کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ مگر حقیقی اور مستقل نوعیت کی مذہبی حکومت بننے کا امکان ابھی نہیں۔ میری زندگی کی سب سے بڑی دریافت خود دریافت ہے۔ دریافت بلا شبہ سب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader