ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
سے بڑی چیز ہے جو کوئی شخص اپنی زندگی میں پاتا ہے۔ تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص مکمل دریافت تک نہیں پہنچ سکتا۔ مکمل دریافت تک پہنچنا صرف آخرت میں ممکن ہوگا۔ آخرت میں خدا کا مشاہدہ کسی انسان کے لئے سب سے بڑی دریافت ہوگی اور اسی کے ساتھ سب سے بڑی لذت بھی۔ 14 جولائی 1991 سمیہ اور یاسر مکہ کے دو مسلمان تھے۔ ابو جہل نے ان کو کلمہ شرک کہنے پر اصرار کیا۔ انھوں نے نہیں کہا۔ آخر کار ابو جہل نے دونوں کو قتل کر دیا۔ اس واقعہ کو لے کر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی جہاد و قتال میں حصہ لینا چاہئے اور اپنی جان کی قربانی دینا چاہئے۔ یہ ایک غلط استدلال ہے۔ حضرت سمیہ اور حضرت یاسر کی شہادت عقیدہ کی عزیمت پر ہوئی نہ کہ میدان جنگ کے قتال پر۔ عقیدہ کے معاملہ میں عزیمت اور رخصت دونوں کی اجازت ہے۔ چنانچہ مذکورہ صحابی اور صحابیہ نے عزیمت پر قائم رہتے ہوئے جان دے دی۔ مگر ان کے صاحبزادے عمار بن یاسر نے رخصت کا طریقہ اختیار کیا۔ اور وقتی طور پر کلمہ شرک بول کر اپنی جان بچالی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تائید فرمائی۔ 20 جولائی 1991 ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ کے مضامین کو پڑھ کر کا برلت پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ الرسالہ کو پڑھنے سے خدا اور رسول پر اعتماد بحال ہوتا ہے یا ان پر بھی اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ اور آپ کی کتابیں پڑھنے سے تو خود میرا اعتماد اللہ اور رسول پر بحال ہوا ہے۔ مجھے از سر نو ایمان کی دولت حاصل ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ پھر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر الرسالہ کو پڑھنے سے خدا اور رسول پر اعتماد بحال ہو رہا ہے تو اس کے بعد کسی اور بات کی کوئی اہمیت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader