Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان ٹائمز (۱۵ جولائی ۱۹۹۱) میں مسٹر کلدیپ نائر کا مضمون چھپا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ یکم اکتوبر ۱۹۷۱ کو انھوں نے لندن میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ان کے مکان پر تفصیلی ملاقات کی تھی۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ سردار پٹیل اس راضی تھے کہ اگر ریاست کے لوگ پاکستان سے الحاق چاہیں تو اس کو پاکستان سے ملا دیا جائے : Sardar Patel, then Deputy Prime Minister, agreed to let Kashmir go to Pakistan if the State so wished. مزید انھوں نے لکھا ہے کہ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کو ۱۵ اگست ۱۹۴۷ تک یہ موقع تھا کہ وہ ہندوستان یا پاکستان جس سے چاہیں الحاق کر لیں۔ مگر مہاراجہ کے ذہن میں آزاد کشمیر کا تخیل تھا۔ اس لئے انھوں نے بروقت دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی الحاق نہیں کیا۔ اس سے معاملہ الجھ گیا۔ شیخ عبداللہ کی غلطی بھی یہی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ کشمیر کا الحاق نہ انڈیا سے ہو اور نہ پاکستان سے۔ بلکہ وہ آزاد اسٹیٹ ہوتا تاکہ وہ اس کے پرائم منسٹر بن سکیں۔ اس راجہ اور لیڈر دونوں نے معاملہ کو بگاڑا۔ اس دنیا میں حقیقت پسندی کا طریقہ آدمی کو کامیاب کرتا ہے، اور حقیقت سے انحراف آدمی کو نا کام بنا دیتا ہے۔ اس دنیا میں آدمی کے لئے دو میں سے ایک چیز کا چوائس لینے کا موقع ہوتا ہے، مگر وہ تیسرا چوائس لینا چاہتا ہے۔ یہی انسان کی اکثریت کا خامیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ۲۲ جولائی ۱۹۹۱ ٹائم میگزین (۲۲ جولائی ۱۹۹۱) نے صفحہ ۲۳ پر کشمیر کے بارے میں ایک رپورٹ چھاپی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ پاکستان کی حکومت کشمیریوں کو ہتھیار دے کر ان کے ذریعہ کشمیر میں گوریلا جنگ جاری کئے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں اس نے لکھا ہے کہ پاکستان کے اسلام پسند لوگوں کے پریس و تعاون سے یہ مسلح تحریک چل رہی ہے۔ وہ مطمئن ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page