ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے کہ میرے قتل کے درپے ہوگئے۔ چنانچہ میں کشمیر چھوڑ کر دہلی آ گیا ہوں ۔ موجودہ زمانہ میں جتنے بڑے بڑے لیڈر ہیں ، ان سب کا معاملہ یہی ہے۔ انھوں نے عوامی خواہشات کا ساتھ دیا۔ اسی لئے وہ ان کے لیڈر بن گئے۔ اگر وہ عوامی خواہشات سے الگ راستہ اختیار کریں تو خود اپنی قوم کے اندر بے قیمت ہو کر رہ جائیں ۔ ۲۵ جولائی ۱۹۹۱ ایک صاحب میرے شدید مخالف ہیں۔ ان کے ساتھ یہ حادثہ ہوا کہ ان کی ایک جوان لڑکی سیڑھی سے گر گئی اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ دوسری ۱۸ سال کی لڑکی پر فالج کا اثر ہوا۔ وہ بستر پر پڑی ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ اس کا دماغ بالکل ماؤف ہو گیا ہے۔ خود اپنی ضرورت کو بھی بتانے سے قاصر ہے۔ میرے ایک ملاقاتی نے کہا کہ آپ کی مخالفت کی وجہ سے ان پر یہ مصیبت آئی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید مخالف عبداللہ بن أبی پر کوئی بلا نازل نہیں ہوئی۔ وہ اپنی طبعی موت مرا۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نیک بخت صاحبزادی حالت حمل میں اونٹ سے گر گئیں اور اس کے بعد ہمیشہ ان کی صحت خراب رہی۔ میں نے کہا کہ صحت اور بیماری الگ چیزیں ہیں۔ ان کا کسی کی موافقت اور مخالفت سے کوئی تعلق نہیں۔ ۲۶ جولائی ۱۹۹۱ نظام الدین کالونی کے لوگوں کا ایک اجتماع تھا۔ اس میں میں نے کہا کہ انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں۔ ان میں سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عدم سے وجود بخشا اور پھر اس کے لئے یہ امکان رکھ دیا کہ وہ دنیا کی مختصر زندگی میں عمل صالح کر کے آخرت کی ابدی نعمتوں کا مستحق بن جائے ۔ آخرت کی جنت ابدی عیش کا ناقابل قیاس خزانہ ہوگی۔ آدمی موجودہ مختصر سی زندگی میں اللہ کی وفاداری کا ثبوت دے کر اس عظیم خزانہ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مالک بن جاتا ہے۔ اس سے بڑا انعام اور کیا ہو سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader