Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۷ جولائی کو دوپہر کو میں ایک اجتماع میں شرکت کے لئے پٹنہ پہنچا۔ پٹنہ اس شہر کا قدیم نام ہے۔ شہنشاہ اورنگ زیب (وفات ۱۷۰۷) نے اس شہر کا نام اپنے پوتے عظیم کے نام پر عظیم آباد رکھا۔ حالاں کہ پٹنہ ۱۷۶۵ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضہ میں جانے والا تھا، اور خود شہزادہ" عظیم کے لئے مقدر تھا کہ وہ تاریخ میں گم ہو جائے ۔ یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ اپنے حال کو دیکھ پاتا ہے، اور اپنے حال سے اپنے مستقبل کے بارہ میں رائے قائم کرتا ہے۔ حالاں کہ مستقبل ہمیشہ قانون قدرت کے تابع ہوتا ہے نہ کہ انسان کی اپنی خواہشوں کے تابع ۔ ۲۸ جولائی ۱۹۹۱ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ ۲۵ سال باہر رہ کر واپس آئے ہیں۔ انھوں نے دہلی میں شاندار مکان بنایا ہے۔ ان کی لڑکی اچھے نمبروں سے ایم اے پاس کر چکی ہے۔ ان کا لڑکا امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے آخری مرحلہ میں ہے۔ ملاقات کے وقت وہ اس طرح بول رہے تھے جیسے یہ کہہ رہے ہوں کہ" میرے تو سب معاملات درست ہیں"۔ میں نے پوچھا: کیا آپ اپنے کو کامیاب انسان سمجھتے ہیں ۔ انھوں نے فوراً جواب دیا : یقیناً۔ میں جو چاہتا تھا وہ میں نے کر لیا ۔ اس لئے میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ میں ایک کامیاب انسان ہوں ۔ اپنے ذوق کے مطابق ، مجھے اس قسم کا احساس کا کامیابی پسند نہیں ۔ مجھے تو وہ انسان پسند ہے جس کا احساس یہ ہو کہ میری سب بات بگڑی ہوئی ہے۔ میرا کوئی معاملہ بھی درست نہیں۔ اس احساس کے تحت وہ اپنے دل نگار دل سے یہ کہہ اٹھے_ "خدایا، ایک ایسے انسان کی سب بات بنا دیجئے جو اپنی سب بات بگاڑ چکا"۔ پٹنہ میں مسٹر ایم ٹی خان ایم اے نے کہا کہ مجھے آپ کے مشن سے مکمل اتفاق ہے۔ لیکن اگر آپ صرف رسالہ نکالتے رہے اور کتابیں چھپاتے رہے اور آپ نے کوئی تنظیم یا کوئی عملی ڈھانچہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page