ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے مشن کے حق میں نہیں بن پایا تو آئندہ آپ صرف بائیوگرافی میں باقی رہیں گے۔ اس کے باہر حقیقی زندگی میں کہیں آپ کا کوئی وجود نہ ہوگا۔ مجھے اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ میں بائیوگرافی میں باقی رہتا ہوں یا اس میں بھی باقی نہیں رہتا۔ تاہم مجھے اس سے اتفاق نہیں کہ الرسالہ کا مشن میرے بعد ختم ہو جائے گا۔ الرسالہ مشن دراصل قرآن کو زندہ کرنے کا مشن ہے۔ وہ مسلمانوں کو از سر نو دورِ رسالت والے اسلام سے جوڑنا چاہتا ہے۔ اگر الرسالہ اس میں کامیاب ہو جائے کہ کچھ باصلاحیت افراد کو حقیقی اسلام سے جوڑ دے تو میرے بعد وہ خود حرکت میں آ جائیں گے۔ کیونکہ اب الرسالہ مشن ان کا اپنا مشن بن چکا ہوگا۔ ۳۰ جولائی ۱۹۹۱ء عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان ایک عاقل ہستی ہے (Man is a rational being) مسٹر ایم ٹی خان نے کہا کہ اس کے بجائے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسان یہ استعداد رکھتا ہے کہ وہ ایک عاقل ہستی ہو سکے : Man is capable of being rational میں سمجھتا ہوں کہ دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ ہر آدمی جانتا ہے کہ انسان جب ضد پر اتر آئے تو وہ غیر معقول رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ مگر با اعتبار استعداد یہ صرف انسان ہے جو عدالت لانہ فیصلہ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ بھی صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے غیر معقول رویہ کو معقول ثابت کر سکے۔ ۳۱ جولائی ۱۹۹۱ء جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے لیڈر امان اللہ خاں نے کراچی کے اخبار جنگ کو تفصیلی انٹرویو دیا۔ اس کا ایک حصہ دہلی کے قومی آواز (۲۹ جولائی ۱۹۹۱) میں چھپا ہے۔ اس کے مطابق ، امان اللہ خاں نے کہا کہ ۱۸ ماہ کی تیاری کے بعد جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے پہلی بار ۳۱ جولائی ۱۹۸۸ کو سری نگر میں بم دھماکوں کے ذریعہ دہشت گردی کا آغاز کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کو جنرل ضیاء الحق کی پشت پناہی حاصل تھی۔ مگر ضیاء الحق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader