ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
کی موت کے بعد پاکستان کی حکومت ان تنظیموں کی حمایت کرنے لگی جو پاکستان سے الحاق کی حامی تھیں۔ یکم اگست 1991 ایک صاحب نے دین میں استدلال کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ جس آدمی کے پاس عقیدہ ہے اس کو دلیل کی ضرورت نہیں۔ اور جو بے عقیدہ ہے وہ دلیل سے بھی ماننے والا نہیں۔ یہ بات صحیح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دلیل ہی سے عقیدہ میں جان آتی ہے۔ جو عقیدہ دلیل سے خالی ہو وہ کبھی زندہ نہیں ہو سکتا۔ وہ صرف مردہ روایت ہوگی نہ کہ حقیقی معنوں میں عقیدہ۔ پہلے مرحلہ میں دلیل کی ضرورت اس لئے ہے کہ وہ عقیدہ کی probability کو ثابت کرتی ہے۔ اس طرح جب آدمی کو عقیدہ مل جائے تو اس کے بعد دلیل اس کو یقین کے مرحلہ تک پہنچاتی ہے۔ اور جب آدمی کو یقین حاصل ہو چکا ہو تو اس کے بعد دلیل اس کے یقین میں اضافہ کرتی ہے جس کو ازدیاد ایمان کہا جاتا ہے۔ ۲ اگست 1991 زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آدمی اس بات کو جانے کہ یہاں جو کچھ ہے سب ابتلاء (آزمائش) کے لئے ہے۔ مگر موجودہ مسلم ذہنوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصور ہی سرے سے حذف ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں متعدد آیتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے اقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو دیا جاتا ہے، اور وہ سراسر ابتلاء کا معاملہ ہے۔ اسی بنا پر اقتدار کبھی ایک گروہ کو دیا جاتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ مگر مسلم ذہنوں نے حد درجہ جسارت کے ساتھ یہ نظریہ بنا لیا ہے کہ ہم زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم نائب خدا کی حیثیت سے زمین پر خدا کا حکم نافذ کریں۔ یہی غلط فکر ہے جس کی بنا پر مسلمان اپنے لئے بے اقتدار حالت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا ذہن یہ بن گیا ہے کہ دوسروں سے لڑا کر اقتدار کو چھینیں تاکہ زمین پر خدا کی نیابت کا منصب سنبھال سکیں۔ اس غلط نظریہ نے مسلمانوں کو ساری دنیا میں بس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader