ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک قسم کا احتجاجی گروپ بنا دیا ہے۔ انھوں نے یہ صلاحیت کھودی ہے کہ وہ تخلیقی گروپ بن سکیں۔ ۲۸ جولائی ۱۹۹۱ کو مغرب بعد ڈاکٹر عبدالحی کمرشیل کامپلکس میں میری ایک تقریر تھی۔ اس میں میں نے کہا کہ جدید سائنسی انقلاب دراصل اسلام کے حق میں ایک مددگار انقلاب تھا۔ مگر اس کو غلطی سے اسلام کا مخالف سمجھ لیا گیا۔ اس سلسلہ میں مثالوں کے ذریعہ اس کی وضاحت کی۔ اجتماع میں گورنر بہار جناب شفیع قریشی صاحب بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ جس آدمی کے پاس عقیدہ ہو اس کو سائنسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ اور جو آدمی نہ ماننا چاہے اس کو کوئی بھی دلیل قائل نہیں کر سکتی۔ لوگ عام طور پر عقیدہ اس کو سمجھتے ہیں کہ انھوں نے زبان سے لا الہ الا اللہ کہہ لیا۔ یا روایتی اور رقت لیدی طور پر کچھ باتوں کو ماننے لگے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ عقیدہ ایک زندہ یقین کا نام ہے نہ کہ رسمی اقرار کا۔ یعنی فطرت میں سوئے شعور رب کو اس طرح جگانا کہ وہ کامل یقین کی صورت میں زندہ ہو جائے۔ آدمی کا شعور اور اس کی فطرت دونوں ایک دوسرے کی تصدیق بن جائیں۔ ۴ اگست ۱۹۹۱ شکیل احمد صاحب (نئی دہلی) نے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ ابھی تک وہ زیادہ اچھا جاب حاصل نہیں کر سکے۔ انھوں نے شکایت کی کہ ہندوستان میں تعصب ہے، امتیاز ہے، مسلمانوں کے لئے ترقی میں رکاوٹیں ہیں۔ میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ لوگ رکاوٹ کہتے ہیں وہ در حقیقت چیلنج ہیں۔ زندگی چیلنجوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہ چیلنج ہمیشہ باقی رہیں گے، کیوں کہ وہ خود خدا کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہمیں شکایت کے بجائے مقابلے کے ذہن کے تحت ان کا سامنا کرنا چاہئے۔ اس کی وضاحت میں میں نے کچھ واقعات بتائے۔ آخر میں وہ بات کو سمجھ گئے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader