Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

کس طرح کھایا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی مشہور ہے کہ بایزید بسطامی کہا کرتے تھے : سبحانی ما اعظم شانی ( سبحان اللہ، میرا معاملہ کتنا عظیم ہے) حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس قسم کا جملہ اپنی زبان سے ادا نہیں فرمایا۔ اس کے برعکس آپ اپنے کو صرف "عبد" کہتے تھے اور روزانہ ستر بار استغفار فرماتے تھے۔ گویا ایک معاملہ میں اتباع سنت اور دوسرے معاملہ میں انحراف سنت۔ ’’بزرگوں‘‘ کے بارہ میں کثرت سے اس قسم کی تضاد باتیں مشہور ہیں۔ یہ باتیں اگر صحیح ہیں تو وہ بزرگوں کی حیثیت کو مشتبہ کرتی ہیں۔ اور اگر غلط ہیں تو روایت کرنے والوں کی حیثیت کو۔ ۸ اگست ۱۹۹۱ لا الہ الا اللہ کا مطلب اہل ظاہر کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے برعکس صوفیاء کے یہاں اس کلمہ کا مطلب یہ ہے : لا موجود الا اللہ۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی موجود نہیں۔ اول الذکر کے مطابق، ذات الہی میں تعد نہیں ہے۔ ثانی الذکر کے مطابق ، اس کا مطلب یہ ہے کہ عالم موجودات میں تعدد نہیں۔ ایک ہی کلمہ ہے۔ اس سے ایک گروہ نے توحید کا عقیدہ نکالا۔ دوسرے گروہ نے اسی کلمہ سے وحدت الوجو د کا نظریہ برآمد کر لیا۔ انسانی الفاظ میں ہمیشہ اس قسم کی گنجائش رہتی ہے۔ جو بات انسانی لفظوں میں کہی گئی ہو اس کو صحیح مفہوم میں لینے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی انتہائی سنجیدہ ہو ۔ ورنہ وہ صحیح مفہوم تک پہنچنے میں ناکام رہے گا۔ ۹ اگست ۱۹۹۱ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل المدینہ میں ایک روایت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے حق میں دعا فرماتے ہوئے کہا کہ اے اللہ، مکہ کی برکت کے مقابلہ میں مدینہ میں دگنا برکت دے ( اللهم اجعل بالمدينة ضعفي ما جعلت بمكة

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page