ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
من البركة - کچھ لوگ اس حدیث کو لے کر کہتے ہیں کہ مدینہ کی فضیلت مکہ کی فضیلت سے زیادہ ہے۔ مگر یہ استدلال صحیح نہیں۔ کیوں کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد مدینہ کی مسجد کا ثواب ہے۔ ایسی حالت میں فضلیت کے اعتبار سے مکہ نمبر ۱ پر ہوگا اور مدینہ نمبر ۲ پر۔ اصل یہ ہے کہ مذکورہ حدیث کا تعلق " برکت " سے ہے نہ کہ " فضیلت " سے۔ اصحاب رسول جب مکہ کو چھوڑ کر مدینہ آئے تو وہ بہت پریشان تھے۔ اس وقت ان کی تسکین کے لئے آپ نے مدینہ کے حق میں بہت سی دعائیں فرمائیں۔ مثلاً یہ کہ مد اور صاع میں برکت دے۔ مذکورہ حدیث بھی اسی نوعیت کی ہے۔ یہاں برکت سے مراد ہجرت مدینہ میں برکت ہے نہ کہ خود مدینہ میں برکت۔ ۱۰ اگست ۱۹۹۱ ایک مشہور اسلامی شاعر کا شعر ہے : جس طرح احمد مختار رہے نبیوں میں امام اس کی امت بھی ہے دنیا میں امام اقوام یہ صرف ایک شعر نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ وہ اپنے آپ کو " امام اقوام " سمجھتے ہیں۔ یہ بلاشبہ موجودہ مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کیوں کہ موجودہ مسلمان ایک تنزل یافتہ قوم ہیں۔ ایسی قوم کو ہمیشہ پچھلی سیٹ سے اپنے عمل کا آغاز کرنا پڑتا ہے۔ مگر موجودہ مسلمان اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر پچھلی سیٹ پر جانا اپنے لئے کم درجہ کا کام سمجھتے ہیں۔ ٹاپ سے اپنا عمل شروع کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ٹاپ سے کوئی عمل بھی شروع نہیں ہوتا۔ اس لئے ان کی تعمیر ملی کا عمل بھی شروع نہ ہو سکا۔ " احمد مختار " خدائی آپائنٹمنٹ کی بنا پر نبیوں کے امام ہیں۔ مسلمانوں کے لئے اس قسم کا کوئی خدائی آپائنٹمنٹ نہیں ہے۔ ان کا معاملہ یہ ہے کہ جیسا عمل ویسا بدلہ۔ دین دارانہ زندگی کی پانچ لازمی خصوصیات ہیں ---- ایمان ، عبادت ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader