ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
اخلاق، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، دعوت الی اللہ ۔ موجودہ مسلمانوں میں ابتدائی تین چیزیں ہیں مگر وہ ناقص صورت میں ہیں۔ ان میں ایمان ہے مگر وہ اقراری ایمان ہے نہ کہ عارفانہ ایمان۔ ان میں عبادت ہے مگر وہ شکلی عبادت ہے نہ کہ حقیقی عبادت۔ ان میں اخلاق ہے مگر وہ رسمی اخلاق ہے نہ کہ گہرا اخلاق۔ آخری دو صفتیں ان میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر کوئی زیادتی کرے تو اُس پاس کے مسلمان منکر منہ ہو جائیں۔ سب مل کر اس زیادتی کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اور راگر وہ عملاً ختم نہ کر سکیں تو زبان سے اس کی مذمت کریں۔ دعوت الی اللہ کا مطلب دوسری قوموں تک خدا کے دین کو پہنچانا ہے اور دعوت کے تمام تقاضوں کو برتتے ہوئے اس کو جاری رکھنا ہے۔ یہ دونوں صفتیں موجودہ مسلمانوں کے اندر تقریباً مفقود ہیں۔ ۱۲ اگست ۱۹۹۱ کئی سال پہلے ریڈرس ڈائجسٹ میں کسی نفسیات داں کا ایک مضمون پڑھا تھا۔ اس کا عنوان تھا : اندرونی تحریک کی پیروی کرو (Obey that impulse) مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ بعض اوقات اندر سے کسی کام کے بارہ میں موافق یا مخالف تحریک اٹھتی ہے۔ یہ فطرت کا اشارہ ہوتا ہے۔ اس لئے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ بالکل درست ہے۔ مجھے بار بار اس کا تجربہ ہوا ہے۔ کل میں نے غسل کیا۔ اس کے بعد بدن کا پانی تولیے سے پوچھے بغیر کپڑا پہننے لگا۔ عین اس وقت اندر سے ایک احساس ابھرا کہ تولیہ سے بدن پوچھ کر کپڑا پہنو۔ مگر میں نے اس احساس کی پروا نہیں کی اور بھیگے بدن پر کپڑا پہن لیا۔ چند گھنٹہ کے بعد طبیعت خراب ہوگئی۔ آج تھرما میٹر سے دیکھا تو تقریباً سو ڈگری حرارت ہو گئی تھی۔ فطرت ہر معاملہ میں اپنا الارم دیتی ہے۔ یہ الارم نہایت درست ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ فطرت کے الارم کو کبھی نظر انداز نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader