ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
لکھنؤ کے عربی جریدہ الرائد (۳ محرم ۱۴۱۲ھ) میں ایک عرب شاعر عمر ابو ریشہ کی نظم پڑھی ۔ اس کا عنوان ’’ امتی‘‘ ہے۔ اس کا پہلا شعر یہ ہے کہ اے میری امت، کیا تمہارے لئے دنیا کی قوموں کے درمیان تلوار یا قلم کے اعتبار سے کوئی بلند مقام ہے: امتي هل لك بين الأمم منبر للسيف أو للقلم مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے سو دوسو سال سے اس بات کا ماتم کر رہے ہیں کہ مسلم قوم کے لئے موجودہ زمانہ میں وہ بلند مقام حاصل نہیں جو ماضی میں اس کو حاصل تھا۔ اس بات کو جب میں سوچتا ہوں تو مجھ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسلام کے نام سے صرف بعد کی تاریخ جانتے ہیں، اصل اسلام سے انھیں براہ راست کوئی آگاہی نہیں۔ اسلام کا اصل پہلو یہ ہے کہ ہم کو بغیر محرف دین دیتا ہے۔ وہ ہم کو رب العالمين سے ملاتا ہے۔ ہمارے لئے ابدی جنت کا راستہ کھولنے والا ہے۔ یہ بلاشبہ زیادہ بڑی باتیں ہیں جو آج بھی پوری طرح موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں کو اسلام سے واقفیت نہیں۔ اس لئے انھیں اسلام کے ان اصل پہلوؤں کی خبر بھی نہیں۔ ۱۲ اگست ۱۹۹۱ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور ہر آدمی بے تکان بول رہا ہے۔ ہر آدمی اپنے تمام الفاظ خرچ کر دینا چاہتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر میری زبان سے نکلا ۔ لوگ جتنا بولتے ہیں اتنا وہ کریں ، اور جتنا وہ کرتے ہیں اتنا وہ بولیں تو ساری دنیا کا نقشہ بدل جائے۔ ۱۵ اگست ۱۹۹۱ پاکستان کے اخبار نوائے وقت (۸ اگست ۱۹۹۱) میں ایک مضمون شائع ہوا ہے اس کا عنوان ہے : تاریخ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۴۷ میں ہندوستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader