Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزی الرسالہ جاری کرایا۔ انھوں نے ٹیلیفون پر کلیم الدین صاحب کو بتایا کہ ان کتابوں میں صحیح معنوں میں دعوہ میٹریل (Dawah material) ہے۔ باقی جو کتابیں ہیں ان میں زیادہ تر جہاد کے نام سے لڑائی بھڑائی کی باتیں ہوتی ہیں جو فطرت کو اپیل نہیں کرتے ہیں۔ ۱۹ اگست ۱۹۹۱ میرے جاننے والوں میں ایک صاحب ہیں۔ ان کا ایک بیٹا ہے۔ اس کو انھوں نے معیاری انگلش اسکول میں پڑھایا۔ ان کی تمنا یہ تھی کہ اس کو امریکہ بھیج کر کمپیوٹر انجینئرنگ کا کورس کرائیں۔ برسوں سے وہ اسی کے مطابق بچہ کی تیاریاں کرارہے تھے۔ اب ساری تیاریاں مکمل ہوگئیں ہیں۔ بچہ کا داخلہ امریکہ کے ایک تعلیمی ادارہ میں ہو گیا۔ امریکی سفارت خانہ نے ویزا بھی دے دیا۔ انھوں نے بچہ کی بیرونی تعلیم کے لئے ضروری ڈالر بھی حاصل کر لئیے۔ کل ان سے ملاقات ہوئی تو پہلا جملہ جو ان کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا: ۴ ستمبر کو ہمارا بیٹا امریکہ کے لئے روانہ ہو جائے گا۔ لوگوں کے لئے سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ ان کا بیٹا امریکہ پہنچ جائے۔ مگر مومن کے لئے سب سے بڑی خبر کچھ اور ہے۔ یہ وہی ہے جس کو النبا العظیم کے الفاظ میں قرآن کی سورہ نمبر ۷۸ میں بتایا گیا ہے۔ ۲۰ اگست ۱۹۹۱ اورنگ زیب عالمگیر نے ۲۵ سالہ "جہاد" کے ذریعہ کشمیر سے راس کماری تک ایک عظیم سلطنت بنائی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ایک عظیم اسلامی ایمپائرؤ تام کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مگر جب ملک فتح ہو چکا تو معلوم ہو کہ اس کو چلانے کے لئے صالح افراد کی ضرورت ہے اور وہ اس کے پاس موجود نہیں۔ اس نے حسرت کے ساتھ کہا: نیست جز آدم دریں عالم کہ بسیار است و نیست تا ہم بعد کے لوگوں نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ سید احمد شہید بریلوی نے اسی انداز پر پشاور میں اسلامی حکومت قائم کی جو افراد نہ ہونے کی وجہ سے بکھر گئی۔ اقبال اور جناح نے اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے پاکستان کے نام سے ایک جغرافی ٹکڑا حاصل کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page