Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر وہ بھی افراد سے محرومی کی بنا پر صرف ایک قومی اسٹیٹ بن کر رہ گیا۔ سید قطب اور ان کے ساتھیوں نے یہ سمجھا کہ مصر میں شاہ فاروق اور انورالسادات کو تخت سے ہٹا کر وہ اسلام کی حکمرانی قائم کر سکتے ہیں۔ مگر افراد کے بغیر یہ اسکیم بھی ناکام ہوگئی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کی جماعت کا خیال تھا کہ ایوب خاں اور بھٹو کو ختم کر کے وہ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے جارہے ہیں مگر وہ بھی افراد نہ ہونے کی وجہ سے ناکام رہے۔ قرآن میں افراد کار کے حصول کی تین صورتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک ابراہیمی طریقہ، جس کے ذریعہ دو ہزار سال سے زیادہ مدت میں ایک تازہ نسل تیار کی گئی۔ دوسری مثال بنی اسرائیل کی ہے جن کو چالیس سال کے لئے صحرائے سینا میں ڈال دیا گیا اور اس کے بعد ان کے نو جوانوں کو لے کر ایک ٹیم بنائی گئی۔ تیسری صورت وہ ہے جس کو قرآن میں استبدال قوم کہا گیا ہے۔ یعنی تبلیغ کے ذریعہ غیر مسلم قوموں سے نیا خون حاصل کرنا۔ موجودہ حالات میں میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کی اصلاحی کوشش کے ساتھ انتہائی ضروری ہے کہ غیر مسلم قوموں میں بڑے پیمانہ پر تبلیغ کی جائے۔ دوسری قوموں سے جب تک نیا خون (new blood) نہ ملے صرف مسلمانوں کی بنیاد پر کوئی گہرا نتیجہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ایک صاحب سے گفت گو کے دوران میں نے یہ باتیں کہیں۔ ۲۱ اگست ۱۹۹۱ ایک صاحب نے کہا کہ آپ اکثر غیر مسلم مفکرین کی باتیں نقل کرتے ہیں۔ آپ ان کی کوئی ایک بات اپنے مطلب کے مطابق لے لیتے ہیں۔ حالاں کہ اگر ان کی پوری بات کو لیا جائے تو وہ آپ کی تردید بن جائے گی۔ یہ طریقہ کہاں تک درست ہے۔ میں نے کہا کہ لبید بن ربیعہ العامری قدیم عرب کے ایک شاعر تھے۔ بعد کو انھوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے۔ انھوں نے دور جاہلیت میں یہ شعر کہا تھا : الا کل شی ما خلا الله باطل وکل نعیم لا محالة زائل اسلام قبول کرنے سے پہلے ایک بار قریش کی مجلس میں انھوں نے اپنا یہ شعر پڑھا۔ وہاں حضرت عثمان موجود تھے جو اسلام قبول کر چکے تھے۔ انھوں نے پہلے مصرعہ کو سن کر کہا : صدقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page