ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا۔ اس کو پڑھنے کے بعد ان پتھروں کا ذہن بدل گیا۔ اب وہ اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کرتی ہیں۔ جب کوئی اسلام کی مخالفت کرتا ہے تو مسلمان فوراً اس کو تعصب کا معاملہ بتا کر اس کے دشمن بن جاتے ہیں: حالاں کہ اکثر اوقات میں یہ مخالفت محض نا واقفیت کی بنا پر ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اگر اسلام کی صحیح معلومات پہنچائی جائیں تو عین ممکن ہے کہ ان کی مخالفت موافقت میں تبدیل ہوجائے۔ ۲۴ اگست ۱۹۹۱ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ الرسالہ میں صرف مسلمانوں کی باتیں ہوتی ہیں۔ اس کے مضامین میں نیشنل اپروچ نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ الرسالہ میں بہت سے مضامین خالص نیشنل انداز کے ہوتے ہیں جو کسی فرقہ سے نہیں بلکہ پوری مین کائنڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھیں مضامین کا ایک مجموعہ "تعمیر کی طرف" کے نام سے چھاپا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بظاہر مسلمانوں کو مخاطب کرنے والے مضامین بھی غیر نیشنل نہیں ہوتے۔ الرسالہ میں مسلمانوں سے متعلق جو مضامین ہوتے ہیں ان میں مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ وہ اس ملک میں پروٹسٹنٹ گروپ بن کر نہ رہیں بلکہ وہ ملک کے ایک creative group بنیں، وہ صرف مطالبہ نہ کریں، بلکہ دینے والے بنیں۔ یہ بھی عین نیشنل اپروچ ہے۔ بلکہ یہ لوگوں کے اندر نیشنل اپروچ پیدا کرنے کا سب سے موثر قدم ہے۔ ۲۵ اگست ۱۹۹۱ مولانا ابو الکلام مودودی نے اپنی کتاب "تجدید و احیاء دین" میں جزوی مجدد اور کامل مجدد کی تقسیم کی ہے۔ انھوں نے مہدی کو کامل مجدد قرار دیا ہے۔ یہ تقسیم بظاہر درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر کامل مجدد کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ مکمل اسلامی انقلاب برپا کریگا۔ اور ساری دنیا میں اسلامی حکومت قائم کرے گا۔ یہ تعریف مجھے درست نظر نہیں آتی۔ میرا خیال ہے کہ بعد کے دور میں کسی مجدد کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader