ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
ہادی کا رول مقدر نہیں۔ بعد میں آنے والے کے لئے صرف مہدی کا رول مقدر ہے۔ اس لئے دور آخر کے مجدد کو حدیث میں المہدی بتایا گیا ہے۔ اس کے لئے الہادی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ۔ غالباً مہدی کے ذریعہ جو کام انجام پائے گا وہ دین کا کامل اظہار ہے نہ کہ دین کا کامل نفاذ ۔ ۲۶ اگست ۱۹۹۱ء الجیریا سے ٹیلی فون آیا۔ کسی عرب نوجوان نے بتایا کہ محمد سلیمان القائد کو طرابلس کی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ وہ اس وقت پولیس کی کسٹڈی میں ہیں۔ اللہ خیر فرمائے۔ اور محمد سلیمان القائد اور ان کے تمام ساتھیوں کو محفوظ رکھے۔ لوگ اس قسم کے واقعات سن کر عرب حکمرانوں کے اوپر غصہ ہوتے ہیں ۔ مگر مجھے سب سے زیادہ غصہ ان نام نہاد اسلامی جماعتوں پر ہے جنھوں نے " اسلامی سیاست کی تحریکیں چلائیں اور اپنے عمل سے یہ تاثر دیا کہ اسلام نام ہے حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا۔ مصر کے سید قطب اور ان کی جماعت اور پاکستان کے سید ابو الاعلیٰ مودودی اور ان کی جماعت اس سیاست کے چیمپئن ہیں۔ انھیں تحریکوں کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلم حکمراں اسلام کو اپنے لئے سیاسی خطرہ سمجھنے لگے۔ اور ہر اس آدمی کو مشتبہ نظروں سے دیکھنے لگے جو اسلام کے نام پر کام کرنے کے لئے اٹھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبر کے حالات کو ختم کر کے ہمیں یہ موقع دیا تھا کہ اسلام کی دعوت توجیہہ کو کسی رکاوٹ کے بغیر پھیلا سکیں ۔ مگر قطب اور خمینی اور مودودی جیسے لوگوں نے اپنی جھوٹی تحریکوں کے ذریعہ غلط طور پر دوبارہ جبر کے حالات پیدا کر دئیے۔ ان کے اوپر عبد اللہ بن عمرؓ کے وہ الفاظ صادق آتے ہیں جو انھوں نے فتنہ زبیر میں ملوث لوگوں سے کہے تھے ۔ قد قاتلنا حتى لم تكن فتنة وكان الدين لله وانتم تريدون ان تقتاتلوا حتى تكون فتنة ويكون الدين لغير الله (تفسیر ابن کثیر ۲/ ۳۰۸ ) دور قدیم میں سب سے بڑا عوقی مسئلہ یہ تھا کہ توحید کا نظریہ اسٹیٹ کا حریف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader