Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

بن گیا تھا۔ قدیم زمانہ "خدائی بادشاہت" کا زمانہ تھا۔ ہر بادشاہ کسی نہ کسی مشرکانہ عقیدے سے اپنے لئے حکمرانی کا حق حاصل کئے ہوئے تھا۔ اس بنا پر توحید اس کو اپنے حق حکمرانی کی نفی کرتی ہوئی نظر آتی تھی۔ صحابہ کرام کے ذریعہ جو انقلاب آیا اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ سیاست میں جمہوریت کا دور آیا۔ اس انقلاب کے زیرِ اثر شرک محدود و معنوں میں ایک مذہبی عقیدہ بن کر رہ گیا۔ سیاسی عقیدہ کی حیثیت سے اس کی اہمیت ختم ہو گئی۔ مگر موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم رہنما اٹھے جنھوں نے اسلام کو سیاسی نظام کی حیثیت سے پیش کیا۔ اس نظریہ سے متاثر افراد اپنے حکمرانوں سے ٹکرا گئے۔ کیوں کہ ان کا عقیدہ ان سے یہ کہتا تھا کہ ان حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹاؤ تاکہ اسلام کا قانونی اور سیاسی نظام نافذ کیا جاسکے۔ اس کے نتیجہ میں اہل دین اور اہل حکومت کے درمیان غیر ضروری طور پر حریفانہ فضا پیدا ہوگئی۔ یہ قدیم فتنہ دوبارہ نئی شکل میں لوٹ آیا۔ ۲۸ اگست ۱۹۹۱ پچھلے زمانہ میں علم کا تصور آج سے بالکل مختلف تھا۔ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ علم وہ ہے جو سچائی کا راستہ دکھائے۔ جو علم سچائی کا راستہ نہ دکھائے وہ علم ہی نہیں: علمے کہ راہ حق نہ نماید جہالت است آج علم کو روزگار اور دولت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ آج روزگار رخی (job-oriented) تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے۔ باصلاحیت نوجوان ان علمی شعبوں میں ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے دوڑ رہے ہیں جس میں کمائی کے زیادہ سے زیادہ مواقع پائے جاتے ہوں۔ ہندوستان میں اس وقت پونے دوسو یونیورسٹیاں ہیں۔ ہر سال ہزاروں لوگ ان میں پڑھ کر نکل رہے ہیں۔ مگر "جہالت" میں کمی نہیں ہوتی۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ علم کا تصور ہی سرے سے بدل گیا ہے۔ مسٹر کمال علیک میرٹھ کے ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ چند سال سے دہلی میں بزنس کرتے ہیں۔ وہ الرسالہ کے کافی قدر داں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ۱۵ اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page