Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

وطن گئے۔ وہاں ایک مسلمان کسان دادا گیری کرنے لگا تھا۔ اس نے کئی قتل کئے، کئی ڈاکہ ڈالے ۔ اس کے اوپر آٹھ مقدمات چل رہے تھے۔ کمال صاحب نے کہا کہ تم میرے پاس دہلی آؤ۔ میں تم کو ایک تعویز دوں گا۔ جب وہ دہلی آیا تو انہوں نے اس کو ” رازِ حیات“ مطالعہ کے لئے دی۔ کمال صاحب نے بتایا کہ اس کتاب کو پڑھ کر اس کی زندگی بدل گئی۔ اس نے اب جرائم کی زندگی چھوڑ دی ہے اور اپنی کھیتی باڑی کے کام میں مشغول ہو گیا ہے۔ اور بچوں کو تعلیم دلا رہا ہے۔ اسی طرح انھوں نے بتایا کہ دہلی کے ایک اسکول کے ماسٹر صاحب کو انھوں نے رسالہ اور کتابیں دیں۔ اب ماسٹر صاحب کہتے ہیں کہ ان چیزوں کو پڑھ کر تو میری دنیا بدل گئی۔ اس طرح کی رپورٹیں برابر مختلف مقامات سے ملتی رہتی ہیں۔ ۳۰ اگست ۱۹۹۱ جی ڈبلیو ایف ہیگل (۱۸۳۱ - ۱۷۷۰) مشہور جرمن فلسفی ہے۔ اس کا ایک قول ہے کہ واقعات ہیرو بناتے ہیں، ہیرو واقعات کو ظہور میں نہیں لاتے : Events make heroes, not heroes, events. یہ قول میرے خیال سے آدھی صداقت ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ہیرو دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو اپنی زندگی ہی میں ہیرو دانہ شہرت حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ واقعات کی پیداوار ہوتے ہیں۔ مگر ہیرؤوں کی ایک اور قسم ہے جو واقعات کو ظہور میں لاتی ہے۔ یہ ہیرو وہ ہیں جو موت کے بعد ہیروانہ حیثیت حاصل کرتے ہیں۔ اپنی زندگی میں وہ زیر و ہوتے ہیں اور اپنی زندگی کے بعد ہیرو۔ ۳۱ اگست ۱۹۹۱ ہیون سنگ (Hsuan-tsang) ایک چینی بدھسٹ ہے۔ وہ ۶۰۲ء میں پیدا ہوا ۔ اور ۶۶۴ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ۶۲۹ء میں چین سے سفر کر کے انڈیا آیا۔ انڈیا کے بارہ میں اس کا سفر نامہ بہت تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اس نے اپنے سفر نامہ میں لکھا: ” ہندوستان ایک خوشحال ملک ہے جہاں دودھ کی ندیاں بہتی ہیں۔ یہاں کے لوگ سادہ اور پاک زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ اپنے گھروں کو تالا نہیں لگاتے۔ اور اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page