ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
کھانے پینے کا سامان خود پیدا کرتے ہیں ؟ آج کا ہندوستان اس سے سراسر مختلف ہے۔ میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ ساتویں صدی عیسوی کے ہندوستان اور بیسویں صدی کے ہندوستان میں اتنا زیادہ فرق کیوں ۔ وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ یکم ستمبر 1991 آج ڈاکٹر شمس الآفاق صاحب کے یہاں اجتماع تھا۔ میں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں کچھ باتیں کہیں۔ اس ذیل میں میں نے کہا کہ ٹیپو سلطان کی فوج میدانِ جنگ چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ تھوڑے ہی لوگ ٹیپو کے ساتھ رہ گئے۔ دوسری طرف انگریزوں کے پاس بہت بڑی فوج تھی۔ اس کے باوجود ٹیپو نے جنگ کی اور مارے گئے۔ دوسری طرف حضرت موسیٰ کے زمانہ میں جہاد کا حکم آگیا۔ اس وقت بنی اسرائیل نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ صرف تھوڑے سے لوگ آپ کے ساتھ رہ گئے۔ اس کے بعد جہاد کا حکم ملتوی کر دیا گیا۔ میں نے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اپنی طاقت اور دشمن کی طاقت میں بہت زیادہ نابرابری ہو، اس وقت دشمن سے جنگ کرنا پیغمبروں کا طریقہ نہیں۔ یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ایک مسلمان نے کہا : آپ ٹیپو کا comparision پیغمبر سے کر رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ مسلمانوں کے پڑھے لکھے لوگ بھی کتنے بے پڑھے لکھے ہیں۔ ظاہر ہے کہ میں نے پیغمبر اور ٹیپو میں تقابل نہیں کیا تھا۔ بلکہ میں نے پیروی کی بات کہی تھی۔ میں نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ پیغمبروں کا طریقہ کیا ہے جس کی ہمیں پیروی کرنا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں بیشتر مسلمانوں کا حال یہی ہے۔ اختلاف پیش آتے ہی وہ غیر منطقی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ۲ ستمبر 1991 رات کو ایک خواب دیکھا۔ صبح چار بجے اٹھ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ میں سفر کے دوران کہیں ٹھہرا ہوں۔ وہاں ایک صاحب ہیں جنہوں نے بہت جائیداد بنائی ہے۔ میرے ایک ساتھی نے کہا ، دیکھیئے ، انھوں نے اپنے بیٹوں کے لئے کروڑوں روپیہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader