Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نے شوق عمل چھوڑا۔ اور شوق عمل سے بڑی کوئی چیز اس دنیا میں نہیں۔ میرا مذکورہ ساتھی اس جملہ کو سن کر بہت متاثر ہوا۔ وہ دوڑ کر گیا اور جلدی سے ایک کاغذ لایا۔ اور کہا کہ اپنے اس جملہ کو کاغذ پر لکھ دیجئے ۔ میں نے مسلم لے کر یہ جملہ کاغذ پر لکھا۔ ۳ ستمبر ۱۹۹۱ ماہنامہ افکار ملی (دہلی) ، رستمبر ۱۹۹۱ ، صفحہ ۵ پر ایک خط چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : " اسلامی نظام کے علمداروں کا رویہ " مکتوب نگار ایک ہندوستانی مسلمان ہیں۔ اس وقت وہ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ تاہم انھوں نے اپنا نام ظاہر کرنے کے بجائے " ایک ہمی خواہ" کا لفظ لکھنا پسند کیا ہے۔ ۱۷ جون ۱۹۹۱ کو لکھے ہوئے اس خط کا خلاصہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں امریکیوں کے آنے کے بعد وہاں برائیاں پھیل رہی ہیں۔ مگر امریکیوں کی دل آزادی کے اندیشہ کی بنا پر مجرموں کو شرعی سزانہیں دی جارہی ہیں۔ میں اس سلسلہ میں یہ اضافہ کروں گا کہ امریکیوں کے ڈر سے سعودی حکام اگر اسلامی سزاؤں کو نافذ نہیں کر رہے ہیں تو خود مکتوب نگار نے بھی اس معاملہ میں اسی کردار کا ثبوت دیا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے سعودی حکام کے ڈر سے اپنا نام ظاہر نہیں فرمایا۔ ممکن ہے کہ مکتوب نگار کی رپورٹ درست ہو۔ مگر ایسی صورت میں زیادہ صحیح اور مطابق واقعہ بات یہ تھی کہ مکتوب نگار خط کے آخر میں اپنا نام ' ایک ہی خواہ لکھنے کے بجائے ایک بزدل" تحریر فرماتے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا دانشور طبقہ اسی قسم کے بزدلانہ مظاہروں کا بہا در بنا ہوا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کے کئی ساتھیوں (محمد ہاشم قاسمی ، محسن عثمانی ندوی)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page