ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگ آپ کا ساتھ کیوں چھوڑتے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ کسی شخص یا کسی مشن کو جانچنے کا کوئی معیار نہیں۔ اگر آپ اس کو معیار بنائیں گے تو اس کا سلسلہ صرف مجھ پر نہیں رکے گا۔ وہ بہت دور تک پہنچے گا۔ حضرت مسیح کے متعلق انجیل میں بتایا گیا ہے کہ جب لوگ تلواریں اور لاٹھیاں لے کر آئے تو اس وقت آپ کے سب شاگرد آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ (متی ۲۶ : ۵۶) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لئے ایک ہزار مسلمانوں کے ساتھ نکلے۔ درمیان میں عبد اللہ بن ابی تین سو آدمیوں کو لے کر آپ کی جماعت سے نکل آیا (سیرۃ ابن کثیر ۲۵/۳)، حضرت عبد اللہ بن الزبیر کے اکثر ساتھیوں نے آخر وقت میں ان کا ساتھ چھوڑ دیا ۔...خذلہ عامة الصحابہ، الاسلام للزركلی (۴/ ۸۷) ، تازہ مثال یہ ہے کہ مولانا احمد علی قاسمی نے لکھا ہے کہ امیر شریعت سید منت اللہ رحمانی کی وفات کے بعد یہ انتہائی افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے کہ جن حضرات کو مولانا رحمانی نے تہائی صدی تک تربیت دے کر تیار کیا تھا انھیں میں سے بعض حضرات امارت شرعیہ کے خلاف مذموم اور منظم سازش کرنے میں مبتلا ہیں۔ (ماہنامہ دعوت و عزیمت ستمبر ۱۹۹۱ ، صفحہ ۲) ۵ ستمبر ۱۹۹۱ کچھ لوگ آئے جو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے فکر سے متاثر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی فکر غیر مکمل ہے۔ آپ کے پیغام میں امت کے تمام مسائل کا جواب نہیں ۔ میں نے کہا کہ یہ بات نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ مولانا مودودی کی تفکیر مبنی بر نظام (system-based) تفکیر ہے۔ اس کے مقابلہ میں میری تفکیر مبنی بر فرد (individual-based) تفکیر ہے۔ آپ کے ذہن پر مبنی بر نظام فکر چھایا چکا ہے ، اس لئے مبنی بر فرد فکر آپ کی سمجھ میں نہیں آتا۔ میں نے کہا کہ مولانا مودودی اور ان کے جیسے دوسرے حضرات کی فکر یہ ہے کہ حکومتی نظام پر قبضہ کر کے اس کی طاقت سے فرد اور سماج کی اصلاح کی جائے۔ ان کے نزدیک مثالی نظام اسی طرح بنایا جا سکتا ہے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ دور اول میں حصول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader