ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
اقتدار سے پہلے فکری تحریک کے ذریعہ ایک لاکھ افراد کی ٹیم تیار ہو گئی۔ اس نے ایک انقلاب برپا کیا۔ اس کے بعد جب خلافت راشدہ کی صورت میں باقاعدہ اسلامی حکومت قائم ہوئی تو حکومتی ذرائع سے دوبارہ اس قسم کی صالح ٹیم نہ بن سکی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افراد سازی کا کام فکری تحریک کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ حکومتی طاقت کے ذریعہ۔ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ محمد محفوظ صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ وہ ایس آئی ایم کے پریذیڈنٹ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۲۳- ۲۴- ۲۵ دسمبر ۱۹۹۱ کو بمبئی میں وہ لوگ اپنا انٹرنیشنل اجتماع کر رہے ہیں۔ اس کا نام ’’اقدام امت کانفرنس‘‘ ہوگا۔ مجھ سے کانفرنس کے لئے پیغام مانگ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ میں کیا پیغام دوں۔ میرے نزدیک تو اس قسم کی کانفرنسیں بالکل نرز ٹھک ہیں۔ موجودہ حالات کے اعتبار سے ضرورت ہے کہ ’’تیارئ امت کانفرنس‘‘ کی جائے، اور آپ لوگ ’’اقدام امت کانفرنس‘‘ کر رہے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسان بیج ڈالنے کے موسم میں فصل کاٹنے کی تقریب منانے لگے۔ ۷ ستمبر ۱۹۹۱ مسٹر اے این ڈار کا ایک مضمون ہندوستان ٹائمز (۵ ستمبر ۱۹۹۱) میں پڑھا۔ کشمیر کی جنگ جویانہ سیاست کے مقابلہ میں نئی دہلی کی تشدد کی پالیسی سے انھوں نے اختلاف کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کشمیر میں انڈیا کی پالیسی عوام رخی ہونی چاہئے نہ کہ بندوق رخی : ...the policy should be people-oriented, instead of gun-oriented. کشمیر کے بارہ میں اکثر لوگ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ رائے محض سادہ لوحی پر مبنی ہے۔ کشمیر کا معاملہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے لئے کر پشن کا مسئلہ ہے۔ دونوں جگہ اس کے نام پر لوٹ مچی ہوئی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے موجودہ پاکستانی حکمرانوں پر الزام لگایا ہے کہ کشمیر کے بارہ میں بیرونی ملکوں میں مہم چلانے کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader