Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

نام پر انھوں نے دس کروڑ روپے۔ سرکاری خزانہ سے وصول کر لئے (نوائے وقت ۳۰ اگست ۱۹۹۱) اسی طرح مسٹر موہن چراغی نے قومی آواز (۷ ستمبر ۱۹۹۱) میں تفصیل سے بتایا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ختم نہ ہونے کی واحد وجہ رشوت ہے۔ کشمیر کے ایشو پر لوگ لیڈری حاصل کر رہے ہیں۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک اس کے نام پر رقمیں وصول کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں مسئلہ کا اصلی حل یہ ہے کہ کرپشن کو ختم کیا جائے۔ فائرنگ بند کر کے چیخ پکار سے کوئی فائدہ نہیں۔ ۸ ستمبر ۱۹۹۱ ڈاکٹر شمس الآفاق اور ان کے ساتھیوں نے ٹیلی فون پر سوال کیا کہ صبر کی انتہا کیا ہے ، اور صبر اور بزدلی میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ صبر ایک مقصد کے لئے کیا جاتا ہے ۔ جب کہ بزدلی کسی مقصد کے بغیر محض انفعالی جذبہ کے تحت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی لئے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ صبر کی حد کیا ہے۔ صبر اس وقت تک کرنا ہے جب تک وہ مقصد کے حصول میں مددگار رہو۔ جب وہ مقصد کے حصول میں مددگار نہ رہے تو اس کے بعد صبر کی حد آجائے گی ـــــ صبر بر بنائے مقصد ہوتا ہے اور بزدلی بر بنائے کمزوری ۔ صبر کی حد آنے کے بعد صبر کا معاملہ مقصد سے متعلق نہیں رہتا ، وہ استطاعت سے متعلق ہو جاتا ہے۔ اگر آدمی کے اندر قوت ہے تو وہ عزیمت کا طریقہ اپنائے۔ اور اگر وہ اپنے اندر قوت نہیں پاتا تو اس کے لئے جائز ہو جاتا ہے کہ وہ رخصت کا طریقہ اختیار کرے۔ ۹ ستمبر ۱۹۹۱ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ ان کو الرسالہ مشن کے صبر و اعراض والے پہلو سے اختلاف تھا۔ میں نے قطعی دلائل کے ذریعہ اس کی اہمیت ثابت کی۔ مگر وہ آخر وقت تک ماننے پر راضی نہیں ہوئے۔ صبر و اعراض کی اہمیت کو جب میں قرآن و حدیث سے ثابت کرتا تو وہ عقلی اشکالات پیش کر دیتے ۔ اور جب میں اس کو عقلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page