ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
دلائل سے ثابت کرتا تو وہ کہتے کہ ہم کو قرآن و حدیث کے ذریعہ بتائیے۔ میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ خواہ کتنے ہی زیادہ طاقت ور دلائل سے ثابت کر دیا جائے آدمی اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اور اس کی خاص وجہ یہی ہے کہ وہ نکتہ بحث کو بدل دیتا ہے۔ وہ ایک اعتراض پیش کرتا ہے۔ اور جب اس کے اعتراض کو دلائل سے رد کر دیا جائے تو وہ نکتہ بحث کو بدل دے گا۔ اس طرح نئے نکتہ بحث کی روشنی میں اس کو سابقہ بات غیر ثابت شدہ نظر آنے لگی۔ 10 ستمبر 1991ء امریکہ سے مسز عابدہ بیگم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا خط موصول ہوا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہاں کے مسلمان جو جدید تہذیب سے متاثر ہو کر اسلام کے بارہ میں طرح طرح کے اعتراضات کر رہے ہیں۔ مثلاً غلامی، وغیرہ اس قسم کے خط میرے پاس اکثر آتے رہتے ہیں جن میں جدید طبقہ کے اعتراضات ہوتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان کا جواب دیا جائے ۔ ان میں سے کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ ان اعتراضات کا جواب تو سوال سے دیا جا رہا ہے، پھر اعتراضات ختم کیوں نہیں ہوگئے ۔ اصل یہ ہے کہ مسئلہ اعتراض کا جواب دینے کا نہیں ہے۔ بلکہ معترض کے ذہن کو صحیح کرنے کا ہے۔ یہ بہت آسان ہے کہ جب بھی کوئی شخص اعتراض کرے تو اس کے اعتراض کا پرشور جواب دے دیا جائے۔ مگر یہ طریقہ بے فائدہ ہے۔ اصل مسئلہ تزکیہ ذہنی ہے۔ یہی کام ہم الرسالہ اور کتابوں کے ذریعہ کر رہے ہیں۔ 11 ستمبر 1991ء ہندستانی ٹی وی (دور درشن) پر کوئز پر وگرام ہوتے رہتے ہیں۔ اگست 1991ء میں اس قسم کا ایک کوئز پروگرام تھا۔ اس میں مختلف سوالوں کے ساتھ ایک سوال یہ کیا گیا کہ کون شخص ہے جس کو آزادی ہند (۱۹۴۷) سے پہلے مسلم لیگی لیڈر مسٹر محمد علی جناح نے کانگریس کا شو بوائے کہا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader