Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

حصے لینے والے نوجوان طلبہ میں سے ایک شخص نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد۔ یہ تاریخی اعتبار سے صحیح جواب تھا۔ چونکہ اس کا تعلق ایک تاریخی واقعہ سے ہے اس لئے وہ بظاہر قابل اعتراض بھی نہیں۔ مگر مسلم حلقوں میں اس پر زہر دست شور و غل شروع ہو گیا۔ اس کو مولانا آزاد کی توہین قرار دیا گیا۔ اس مسئلہ پر کثرت سے پر جوش مضامین اور خطوط اخباروں میں شائع ہوئے۔ جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ یہ لفظ (شو بوائے)، اگر مولانا آزاد کی توہین ہے تو اس توہین کا ارتکاب کرنے والے مسٹر محمد علی جناح ہیں نہ کہ دور درشن۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اس بات پر دور درشن کی مذمت کر رہے ہیں اور مسٹر جناح کو ان کے اس ریا کس کے باوجود قائداعظم' بنائے ہوئے ہیں۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۹۱ مولانا انیس لقمان ندوی سے ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اس دنیا میں کسی بھی شخص کو دلیل کے ذریعہ چپ کرانا ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا آزمایش کی دنیا ہے۔ آزمایش کی مصلحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے یہاں التباس اور اشتباہ کا ماحول قائم کر رکھا ہے۔ یہاں ہر چیز پر شبہ قائم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اسی حالت اشتباہ کی وجہ سے یہاں ہر دلیل کے جواب میں الفاظ کا ایک مجموعہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہاں صرف اس شخص کو مطمئن کرنا ممکن ہے جو شبہ کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو ماننے کے لئے تیار ہو۔ جو شخص اس ذہنی قربانی کے لئے تیار نہ ہو اس کو کوئی بھی بات ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ حتی کہ سادہ اور معروف حقائق بھی نہیں۔ اس دنیا میں کسی داعی کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ حق کا اعلان کرتا ہے۔ وہ سنانے کے تقاضے پورے کرے، خواہ دوسرے لوگ سننے کے تقاضے پورے نہ کر رہے ہوں ۔ حقیقت کے غیر مشتبہ اظہار کے لئے ہمیں صرف صور اسرافیل کا انتظار کرنا چاہئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page