Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۶ جولائی ۱۹۹۱ کو مولانا اسعد مدنی نے ممبران پارلیمنٹ کو مسجد عبد النبی میں بلایا۔ کل ۲۰ ممبر جمع ہوئے۔ ممبران کے سامنے ایک انگریزی میمورنڈم دستخط کے لئے پیش کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اس میں وزیر اعظم سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایک ایسا قانون بنایا جائے جس میں یہ ضمانت ہو کہ ملک کی تمام مساجد ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کی پوزیشن پر باقی رکھی جائیں گی۔ سب نے میمورنڈم پر دستخط کر دیا۔ عبد الصمد صدیقی ایم پی نے کہا کہ میں تو پڑھے بغیر اس پر دستخط نہیں کروں گا۔ انھوں نے پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ ماسوا بابری مسجد (except Babri Masjid) عبد الصمد صاحب نے کہا کہ میں اس میمورنڈم پر صرف اس وقت دستخط کروں گا جب کہ مذکورہ الفاظ کی جگہ بشمول بابری مسجد (including Babri Masjid) ہو چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اس کے بعد ۲۳ اگست ۱۹۹۱ کو اسی مضمون کا بل ہندوستانی پارلیمنٹ میں کانگریس کی طرف سے پیش کر دیا گیا۔ اس میں بابری مسجد کو مستثنیٰ کر کے بقیہ مساجد کو ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کی پوزیشن پر برقرار رکھنے کی ضمانت دی گئی تھی۔ اس کا نام Places of Worship (Special Provision) Bill ہے ۔ ۱۰ ستمبر ۱۹۹۱ کو لوک سبھا نے کثرتِ رائے سے اس بل کو پاس کر دیا۔ اس کے بعد ۱۲ ستمبر ۱۹۹۱ کو راجیہ سبھا نے بھی اس کی منظوری دے دی۔ ایودھیا کی بابری مسجد میں ۲۲ دسمبر ۱۹۴۹ کو رات کے وقت مورتیاں رکھ دی گئی تھیں۔ اس وقت مولانا ابو الکلام آزاد اور دوسرے بڑے بڑے مسلم لیڈر زندہ موجود تھے۔ ۱۴ ستمبر ۱۹۹۱ مولانا ابو الکلام قاسمی نے بتایا کہ ۱۹۸۸ میں وہ مبئی گئے۔ وہ محلہ ناگ دیوی میں تھے۔ انھوں نے اپنے میزبان سے کہا کہ مجھے بوہرہ فرقہ کے کسی آدمی سے ملاؤ۔ وہ لوگ مولانا کو پڑوس کے ایک بوہرہ تاجر کے پاس لے گئے۔ یہ ایک بڑا تاجر تھا۔ مولانا نے اس سے سوال کیا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ عام مسلمانوں کے بارہ میں آپ حضرات کے احساسات کیا ہیں۔ بوہرہ تاجر نے اپنے سینہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے دھیمے انداز میں کہا: "مولانا صاحب، ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page