ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
دل کا مریض ہوں۔ ڈاکٹر نے مجھے بولنے سے منع کیا ہے۔ یہ تاجرانہ کردار کی ایک اچھی مثال ہے۔ تاجر ہمیشہ نزاعی گفت گو سے پرہیز کرتا ہے۔ یہ تاجرانہ مزاج تجارت میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ ۱۵ ستمبر ۱۹۹۱ کچھ عرب حضرات نے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ اس ادارہ کا مقصد ــــ اسلامية المعرفة (Islamization of Knowledge) ہے۔ میں اس کے ایک سمینار (کوالالمپور) میں شریک ہوا تھا۔ سفر نامہ مطبوعہ الرسالہ دسمبر ۱۹۸۲ء میں اس کا ذکر موجود ہے۔ اس وقت اس کے صدر مرحوم ڈاکٹر فاروقی فلسطینی تھے۔ آجکل اس کے صدر ڈاکٹر طٰحہ جابر العلوانی سعودی ہیں۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس (جامعۃ الامام ریاض) کل ہمارے یہاں آئے ہیں۔ ان سے میں نے ذکر کیا کہ ڈاکٹر فاروقی کے بعد یہ تحریک کیسی چل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب وہ بہت طاقت ور ہو چکی ہے اور کئی ملکوں میں اس کے دفاتر قائم ہیں۔ اس کا صدر دفتر واشنگٹن میں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اگرچہ عرب حکومتوں سے انھیں براہ راست مدد نہیں ملی۔ مگر انھوں نے مختلف ذرائع سے ایک سو ملین ڈالرجع کر لئے ہیں۔ عملی نتیجہ کے اعتبار سے میں اس تحریک کا کوئی فائدہ نہیں سمجھتا۔ مگر اس تحریک نے مسلمانوں کو ایک بہت بڑا عنوان دیا ہے۔ ــــ سائنسی علوم کو اسلامی بنانا۔ موجودہ مسلمانوں کو چھوٹا کام اپیل نہیں کرتا۔ البتہ بڑے بڑے کاموں کی طرف وہ دوڑ پڑتے ہیں اور اس کو بڑا بڑا تعاون دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر حقیقی نتیجہ ہمیشہ چھوٹے کاموں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے نہ کہ بڑے کاموں کے ذریعہ۔ ۱۶ ستمبر ۱۹۹۱ پچھلے سیکڑوں سال سے مسلمانوں کے درمیان اسلامی سرگرمیوں کی دھوم برپا ہے۔ مگر حقیقی اصلاح کے اعتبار سے نتیجہ بالکل صفر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں وہ ہیں جو مسلمانوں کے اندر فخر کی نفسیات ابھارنے والی ہیں۔ جبکہ اصلاح کی اصل جڑ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر تواضع کی نفسیات پیدا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader