ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ سرگرمیاں تقریبا سب کسی نہ کسی عظمت کو ابھارنے میں مشغول ہیں۔ عظمت کے احساس کو ابھارنا بذات خود درست ہے۔ مگر عظمت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، خدا کی عظمت۔ دوسرے، خدا کے علاوہ دوسری چیزوں کی عظمت۔ خدا کی عظمت کا احساس آدمی کے اندر عجز اور فروتنی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اور دوسری تمام چیزوں کی عظمت کا احساس فخر کی نفسیات کو جگاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کوئی بھی تحریک خدا کی عظمت کے احساس کو ابھارنے والی نہیں اٹھی۔ مسلمانوں میں اس دور ان میں جتنی بھی تحریکیں برپا ہوئیں وہ سب کی سب غیر خدائی عظمت کا احساس ابھارنے میں مشغول رہیں۔ رسول کی عظمت، تاریخ اسلام کی عظمت، بزرگان دین کی عظمت، فضائل اعمال کی عظمت، نظام اسلام کی عظمت، وغیرہ۔ اس قسم کی ہر عظمت مسلمانوں کے اندر فخر کی نفسیات جگا سکتی تھی اور وہی اس نے ان کے اندر جگایا۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر اللہ رب العالمین کی عظمت کا احساس ابھارا جائے۔ اللہ کی عظمت کا احساس آدمی کے اندر عجز اور فروتنی اور تواضع کی نفسیات کو بیدار کرتا ہے اور یہی ہر قسم کی اصلاح کی اصل جڑ ہے۔ جب کہ دوسری تمام عظمت کا تذکرہ آدمی کے اندر فخر اور برتری کے احساس کو بیدار کرتا ہے۔ اور فخر اور برتری کا احساس اصلاح کا قاتل ہے نہ کہ اس کا محرک۔ 1991ء اسلام کے علمی مطالعہ کے سلسلہ میں بہت بڑا مسئلہ اختلاف کا ہے۔ میں نے اپنے مطالعہ میں پایا ہے کہ تقریباً تمام امور میں علماءِ اسلام کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس طرح ہر ایک کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی عالم کے حوالہ سے اپنی بات کہہ سکے۔ مثلاً ابن مسعود اور معوذتین کے مسئلہ کو لیجئے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود معوذتین کو قرآن سے خارج سمجھتے تھے وہ ابن حجر عسقلانی کا حوالہ دیتے ہیں جنھوں نے صحیح بخاری کی شرح میں امام احمد اور امام ابن حبان کی روایت سے یہ لکھا ہے کہ ابن مسعود معوذتین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے تھے۔ اور جو لوگ اس کے خلاف رائے رکھتے ہیں ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader