ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
کا کہنا ہے کہ محدث ابن حزم نے قدح المعلیٰ میں لکھا ہے کہ یہ ابن مسعود پر ایک الزام ہے اور یہ ایک موضوع قول ہے کہ ابن مسعود معوذتین کو داخل مصحف نہیں سمجھتے تھے۔ اسی طرح امام نووی مہذب کی شرح میں لکھتے ہیں کہ معوذتین کو داخل قرآن نہ سمجھنے کے بارہ میں ابن مسعود کا جو قول نقل کیا گیا ہے وہ سراسر باطل ہے۔ ۱۸ستمبر ۱۹۹۱ اصحاب رسول کا امتیازی مقام ان کے امتیازی عمل کی بنا پر ہے۔ ان کا یہ امتیازی عمل، ایک لفظ میں یہ تھا کہ انھوں نے ساتھ نہ دینے والے عمل کا ساتھ دیا۔ اصحاب رسول نے بے اعترافی کے حالات میں اعتراف کیا۔ انھوں نے ناقدری کے حالات میں قدر دانی کی۔ انھوں نے التباس کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو پہچانا۔ انھوں نے بے عظمت چیز کو عظمت کے روپ میں دیکھا۔ انھوں نے وہاں بینا ہونے کا ثبوت دیا جہاں لوگ اندھے بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے وہاں سچائی کی آواز سنی جہاں کان والوں کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ ۱۹ستمبر ۱۹۹۱ ایک مصری عالم سے ملاقات ہوئی۔ وہ الاخوان المسلمون کی فکر سے اتفاق رکھتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ جمال عبدالناصر اور انور سادات دونوں پہلے اخوانی تھے، اور ان کے اجتماعات میں باقاعدہ شریک ہوتے تھے۔ پھر انقلاب (۱۹۵۲) کے بعد دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ناصر اور سادات دونوں یہودی جاسوس تھے۔ وہ جاسوس کے طور پر اخوانی جماعت میں شامل ہوئے تھے۔ اس جواب میں بظاہر ناصر اور سادات کے مخالفانہ کردار کی توجیہہ مل رہی ہے۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس کے بعد ایک اور شدید تر مسئلہ سامنے آ جاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اخوانی قیادت اتنی سادہ لوح تھی کہ وہ خطرناک جاسوسوں کو پہچان نہ سکی۔ حتیٰ کہ انھیں جاسوسوں کے تعاون سے انھوں نے شاہ فاروق کو اقتدار سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔ اور اپنی خوش فہمی کے تحت یہ سمجھتے رہے کہ شاہ فاروق کا ہٹانا یہودی اسکیم کے حل کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader