ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف مؤثر اقدام ہے۔ ڈاکٹر عبدالحلیم عو لیس مصری سے میں نے پوچھا کہ آپ نے شیخ حسن البنا کو دیکھا تھا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ وہ میری پیدائش سے سات سال پہلے شہید کئے جا چکے تھے۔ البتہ مصریوں کی زبان سے ان کی بابت بہت کچھ سنا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ حسن البنا بہت خوش الحان تھے ۔ وہ اپنی تقریروں میں ہمیشہ قرآن دیر تک پڑھتے تھے۔ اکثر ان کا نصف وعظ قرآن کی تلاوت پر مشتمل ہوتا تھا۔ مصری ان کی تلاوت کو بہت رغبت سے سنتے تھے۔ اسی سے ملتا جلتا کیس کشمیر کے شیخ عبد اللہ کا ہے۔ شیخ عبد اللہ بہت خوش الحان تھے۔ وہ اپنی تقریروں میں قرآن کی تلاوت کرتے اور اقبال کے اشعار خوش الحانی کے ساتھ پڑھتے۔ اس کو سن کر کشمیری مسحور ہوجاتے۔ مذکورہ گفتگو سے میں نے سمجھا کہ کشمیر میں شیخ عبداللہ کی مقبولیت کا جو راز تھا وہی راز مصر میں شیخ حسن البنا کی مقبولیت کا تھا۔ دونوں میں سے کسی کے یہاں کوئی گہری تفکیر نہیں تھی۔ البتہ حسن صوت میں دونوں کو وافر حصہ ملتا تھا۔ اور یہی ان کی مقبولیت کا خاص سبب بنا۔ ۲۱ ستمبر ۱۹۹۱ ۱۱ ستمبر کو میں لاہور میں تھا۔ وہاں کرامت شیخ صاحب کے یہاں قیام تھا۔ وہ عرصہ سے کویت میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کویت میں ایک قومی ترانہ بنایا گیا تھا جس کو تمام بچے گاتے تھے۔ اس کا ٹیپ کا بند یہ ہوتا تھا کہ ہم سب کویت کے لئے ہیں (کلنا لکویت)، لاہور میں ایک بڑے تاجر کے یہاں ہمارا شام کا کھانا تھا۔ کھانے کے بعد گفتگو کے دوران مذکورہ تاجر نے کہا : اگر کوئی شخص پاکستان کے خلاف بولے تو ہم اس کو مار ڈالیں گے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی عام حالت یہی ہے۔ وہ غیر خدا کے بارہ میں حساس ہیں، مگر وہ خدا کے بارہ میں حساس نہیں۔ انھوں نے کسی محسوس چیز یا کسی محسوس شخصیت کو غیرمعمولی اہمیت دے دی ہے، اس کے خلاف وہ سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader